رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت کے پہلے 'شو مین' راج کپور کا تاریخی اسٹوڈیو فروخت ہو گیا


آر کے اسٹوڈیو جو جلد مسمار ہو جائے گا

بھارتی فلموں کے پہلے شو مین راج کپور اور ان کی کئی فلموں میں ہیروئن کا کردار ادا کرنے والی مشہور اداکارہ نرگس دت کی یادوں سے سجا آر کے اسٹوڈیو فروخت ہو گیا ہے۔

بھارت کا ایک بڑا تجارتی گروپ 'گودریج، اس تاریخی اسٹوڈیو کا نیا مالک ہے۔ جلد ہی یہ اسٹوڈیو زمین بوس کردیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق اب یہاں ایک جدید رہائشی کمپلیکس تعمیر ہونے جا رہا ہے۔

آر کے اسٹوڈیو میں ایک سال پہلے اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی۔ جس سے آر کے کی فلموں کے تاریخی کاسٹیومز سمیت اسٹوڈیو کا بڑا حصہ جل کر راکھ ہو گیا تھا۔

اس حادثے کے بعد پہلے اسے دوبارہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن بعد میں مالی خسارے کے باعث پچھلے سال اسے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اسٹوڈیو دو ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا ہے جہاں اب لگژری فلیٹس بنیں گے۔ راج کپور کے بڑے بیٹے رندھیر کپور نے اسٹوڈیو فروخت کرنے سے متعلق خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسٹوڈیو گودریج پراپرٹیز فرم کو فروخت کر دیا گیا ہے۔

آر کے اسٹوڈیو 1948ء میں تعمیر کیا گیا تھا۔ راج کپور اور نرگس کے علاوہ متعدد فلموں کی شوٹنگز اسی اسٹوڈیو میں ہو چکی ہیں جبکہ یہاں عکس بند ہونے والے بہت سے گانے آج بھی لوگوں کو یاد ہیں۔ جن میں اس وقت کا مشہور گانا ' پیار ہوا اقرار ہوا۔' بھی شامل ہے۔

برسات، آوارہ، بوٹ پالش، جاگتے رہو اور شری 420 جیسی فلمیں اسی جگہ تخلیق ہوئیں جبکہ اسٹوڈیو اور آر کے فلمز کا لوگو جو راج کپور اور نرگس کی فلم برسات کے ایک سین کی ناقابل فراموش یاد گار ہے وہ بھی اسی اسٹوڈیو میں مکمل ہوا تھا۔

یہ لوگو آج بھی اسٹوڈیو کے مرکزی دروازے کی دائیں اور بائیں جانب کی دیواروں پر نصب ہے لیکن چند دنوں بعد جیسے ہی اسٹوڈیو زمین بوس ہو گا اس سے جڑی یادیں بھی صرف ذہنوں تک محدود ہو کر رہ جائیں گی۔

کپور خاندان کے لئے یہ اسٹوڈیو فنکشنز اور خاندانی شادیوں کا بھی مرکز ہوا کرتا تھا۔ رشی کپور کے بقول یہ اسٹوڈیو نئے آنے والوں کے لئے فلم انسٹی ٹیوٹ کی حیثیت رکھتا تھا۔ جہاں سے وہ فلم سازی کے ساتھ ساتھ اس پیشے سے جڑے دیگر فنون سے بھی روشناس ہوتے تھے۔

رشی کپور نے اپنی آپ بیتی میں لکھا ہے کہ 2017ء میں لگنے والی آگ نے بہت سی خوب صورت یادوں کو نگل لیا۔ 'میرا جوتا ہے جاپانی۔۔'، اور 'میرا نام جوکر' بھی اسی اسٹوڈیو کی سنہری یادوں کا حصہ ہیں لیکن آگ نے سب کچھ بھسم کرڈالا۔

رشی کپور نے یہ بھی لکھا ہے کہ جب وہ آخری مرتبہ آر کے اسٹوڈیو گئے تو اسٹوڈیو کا ویٹنگ روم جہاں راج کپور اور میرے دادا پرتھوی راج کپور کے بڑے بڑے پورٹریٹ لگے تھے انہیں خاموشی میں ڈوبہ دیکھ کرمیں افسردہ ہو گیا۔

رشی کپور کہتے ہیں کہ جن راہداریوں میں کبھی فلمی سرگرمیاں عروج پر ہوا کرتی تھیں اب وہاں سناٹا ہے۔ اسٹوڈیو نمبر ایک جہاں یاد گار فلم 'آوارہ' کی عکس بندی ہوئی تھی آگ نے اسے خاکستر کر دیا ہے۔ کچھ دنوں بعد پورا اسٹوڈیو ہی خواب ہو جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG