رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں منشیات کے استعمال میں اضافہ


فائل فوٹو

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بے روزگاری، مایوسی اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل کی وجہ سے نوجوانوں میں منشیات کا استعمال بڑھ رہا ہے۔

اس صورت حال کے پیش نظر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نشے میں مبتلا افراد کی بحالی کے مستقل مراکز کے قیام پر کام کر رہی ہے۔

محکمہ سماجی بہبود کے نائب ناظم اسرار مغل نے وی او اے کو بتایا کہ نشے کی لت میں مبتلا ہونے والوں والوں میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ جب تک منشیات کی فراہمی کا راستہ بند نہیں ہوتا، اس وقت تک نشے کرنے والوں کی تعداد کو کنٹرول کرنا مشکل ہے۔

محکمہ سماجی بہبود کے زیر اہتمام میرپور شہر میں نشے سے متاثرہ افراد کی بحالی کے مرکز کے انچارج نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ میر پور اور کوٹلی میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد 50 ہزار سے زیادہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ منشیات کے عادی افراد دوسروں کو منشیات کی جانب راغب کرنے کا ایک بڑا سبب ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ اس کام میں بہت منافع ہے اس لیے اس کاروبار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ میرپور اور کوٹلی میں چونکہ لوگوں کی معاشی حالت اچھی نہیں ہے اس لیے وہ اپنی پریشانیوں سے چھٹکارے کے لیے منشیات میں پناہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ منشیات میں ہیروئن کا استعمال سب سے زیادہ ہے۔

نشے سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے میر پور میں کام کرنے والے نجی ادارے سائبان کے سربراہ ناصر حسین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کالج اور یونیورسٹیوں کے طلبہ میں بھی منشیات کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے۔

محکمہ سماجی بہبود کے سیکرٹری خواجہ احسن نے بتایا کہ منشیات کی نقل و حرکت کو ہمارا محکمہ کنٹرول نہیں کر سکتا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی وزیر برائے صعنت و حرفت نورین عارف کہتی ہیں کہ کشمیر میں صعنتیں نہ ہونے کی وجہ سے بے روزگاری زیادہ ہے، اور حکومت کے پاس سب بے روزگاروں کو ملازمیتں فراہم کرنے کے لیے مالی وسائل نہیں ہیں۔

پاکستانی کشمیر میں منشیات کی فروخت اور استعمال قابل سزا جرم ہے، لیکن ان پر موثر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سرحدیں صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا سے ملتی ہیں جہاں سے منشیات یہاں سمگل کی جاتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG