رسائی کے لنکس

logo-print

مسئلہ کشمیر اور سکیورٹی کونسل کے مستقل ارکان


اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا اجلاس۔ فائل فوٹو

بھارتی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر سے متعلق آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے بعد پاکستان اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں جانے کا ارادہ رکھتا ہے جس کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر، پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک تصفیہ طلب تنازع ہے۔

جموں و کشمیر سے متعلق بھارتی اقدام کے خلاف اگر پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جاتا ہے تو اس بارے میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب شمشاد احمد وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ اس کے لیے لازمی ہے کہ پاکستان کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے مستقل اراکین امریکہ، چین، برطانیہ، روس اور فرانس کی حمایت حاصل ہو۔

پاکستان کی طرف سے سکیورٹی کونسل میں کشمیر پر بھارتی حکومت کے حالیہ یک طرفہ اقدام پر اعتراض اٹھانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں اور پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنا پہلا دورہ سکیورٹی کونسل کے مستقل رکن چین کا کیا جس کے فوری بعد بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر تین روزہ دورے پر بیجنگ پہنچ گئے۔ ایس جے شنکر بھارتی سفیر کے طور پر چین میں 2009 سے 2013 تک خدمات انجام دے چکے ہیں۔

چین

وزیر خارجہ کے دورہ چین مکمل کرنے کے بعد دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے سکیورٹی کونسل میں جانے کا جو فیصلہ کیا ہے، چین اس کی مکمل حمایت کرے گا اور پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گا۔

پاکستان کے سابق سفارتکار نجم الدین شیخ کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کونسل کے مستقل اراکین میں سے ایک اگر پاکستانی مؤقف کی تائید کر دیتا ہے تو پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہو جاتی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ انھیں لگتا ہے کہ جب پاکستان اقوام متحدہ میں درخواست دے گا تو سیکریٹری جنرل، سکیورٹی کونسل سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے روشنی میں اس تنازع کے حل کے لیے مشورے طلب کریں گے۔

چین کی پاکستان کو حاصل حمایت کے بارے میں سابق سفارتکار شاہد امین کا کہنا ہے کہ چین کی حمایت پاکستان کے لیے اچھی ہے۔ لیکن لازمی بات یہ ہے کہ پاکستان کوئی قرارداد منظور کروانا چاہتا ہے تو اس کے لیے پندرہ ووٹوں میں سے نو ووٹ درکار ہوں گے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ سکیورٹی کونسل کے مستقل پانچ اراکین میں سے کوئی ایک رکن بھی قرارداد کو ویٹو نا کرے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ چونکہ پاکستان اور بھارت دو ایٹمی طاقتیں ہیں۔ لہذا ممکن ہے کہ مسئلے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے کوئی قرارداد منظور ہو جائے۔

روس

بھارت کی طرف سے جموں و کشمیر کو دیے گئے خصوصی درجے کی منسوخی اور جموں و کشمیر کو دو الگ الگ وفاق کے ماتحت علاقوں میں تقسیم کرنے کے اقدام سے متعلق روس کا کہنا ہے کہ یہ بھارتی آئین کے مطابق ہے اور روس نے کشمیر تنازع کو دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔

روس کی طرف سے بھارتی حکومت کے اس اقدام کے بارے میں سامنے آنے والے مؤقف پر نجم الدین شیخ کا کہنا ہے کہ امریکہ کی کوششوں کے باوجود بھارت کو سب سے زیادہ ہتھیار فراہم کرنے والا ملک روس ہے۔ اس کے علاوہ روس، بھارت کی تجارت کے لحاظ سے بہت بڑی منڈی ہے۔ یہ دونوں چیزیں روس اور بھارت کے لیے بہت اہم ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ روس کی اب وہ اہمیت نہیں رہی جو کبھی ہوا کرتی تھی۔ لیکن صدر پوٹن نے خاص مہارت سے اپنی پوزیشن بنائی ہے اور خاص کر جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا میں۔ اس تناظر میں صدر پوٹن کا بھارت کے ساتھ تعلق ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔

امریکہ

بھارتی حکومت کے اس اقدام کے بعد امریکی حکومت کی طرف سے بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ اپنے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کا احترام کرے۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی درجے کو منسوخ کرنے سے پہلے بھارت نے امریکہ کے ساتھ مشاورت نہیں کی۔

اقوام متحدہ میں امریکہ کی تائید سے متعلق نجم الدین شیخ کا کہنا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ صدر ٹرمپ نے جو بات کی تھی اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ جنوبی ایشیا میں اگر تنازع بڑھتا ہے تو پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں جو کہ دنیا بھر کے لیے اور خاص کر امریکہ کے لیے خطرہ ہے۔ امریکہ خود کو جوہری استحکام کا سرپرست سمجھتا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ امریکہ فیصلہ کرتے وقت اس چیز کو مدّ نظر ضرور رکھے گا۔

شاہد امین کا امریکہ کے سکیورٹی کونسل میں ممکنہ مؤقف سے متعلق کہنا ہے کہ بظاہر تو امریکی صدر ٹرمپ نے مؤقف اپنایا ہے کہ یہ مسئلہ فوری طور پر حل ہونا چاہیئے۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے بھی اس مسئلے پر محتاط انداز اختیار کیا ہے۔ انھیں لگتا کہ سکیورٹی کونسل میں امریکہ کی طرف سے پاکستان کے ساتھ کوئی منفی رویہ اختیار نہیں کیا جائے گا۔

برطانیہ

اقوام متحدہ کے ایک اور مستقل رکن برطانیہ کی طرف سے اس بھارتی اقدام کے بعد نو منتخب وزیراعظم بورس جانسن کی حکومت کے سیکٹری خارجہ ڈومینک راب نے بھارتی ہم منصب جے شنکر سے بات کی اور جموں و کشمیر کو وفاق کے تابع دو علاقوں میں تقسیم کرنے کے فیصلے پر وضاحت طلب کی۔

برطانوی پارلیمنٹ میں اس معاملے پر تقسیم دیکھی گئی۔ آل پارٹیز پارلیمنٹری گروپ کے اراکین کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا گیا جبکہ کچھ اراکین کی طرف سے بھارتی اقدام کا خیر مقدم کیا گیا۔

برطانیہ سے متعلق شاہد امین کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی تاریخی طور پر اس مسئلے میں بڑی ذمہ داری بنتی ہے۔ برطانیہ ہی کی وجہ سے کشمیر کا مسئلہ بنا ہے۔ کشمیر برطانوی سامراج کی آخری نشانی ہے۔

شاہد امین کا کہنا ہے کہ برطانوی وزیر خارجہ نے بھارتی وزیر خارجہ کے ساتھ تشویش کا اظہار کیا تھا جس سے اشارہ ملتا ہے کہ برطانیہ، سکیورٹی کونسل میں یہ ضرور کہے گا کہ مسئلہ کشمیر بڑا سنگین نوعیت کا ہے اور ایسے اقدام نا اٹھائیں جائیں جن سے کشمیر کے حالات بگڑیں۔

فرانس

فرانس کی طرف سے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے پر کوئی ردعمل نا آنے پر شاہد امین کا کہنا ہے کہ فرانس کو اب تک کوئی پوزیشن لے لینی چاہیئے تھی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ عین ممکن ہے کہ سکیورٹی کونسل میں بھی فرانس کوئی مؤقف اختیار نا کرے۔ شاہد امین کا کہنا ہے کہ فرانس سکیورٹی کونسل میں بھارت کی حمائت نہیں کرے گا۔

شاہد امین کا مزید کہنا ہے کہ اگر یہ مسئلہ سکیورٹی کونسل میں اٹھایا جاتا ہے تو یہ بذات خود ایک پیشرفت ہے اور کشمیریوں کو یقیناً اس سے کچھ تسلی ملے گی اور انھیں پتہ چلے گا کہ دنیا میں ان کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے اور یہ کہ دنیا کشمیریوں سے لاتعلق نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG