رسائی کے لنکس

آسام میں 20 لاکھ افراد کی شہریت منسوخ ہونے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اظہار تشویش


فائل فوٹو
فائل فوٹو

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے آسام میں شہریوں کے نیشنل رجسٹر آف سیٹزنز 'این آر سی' میں تقریباً بیس لاکھ افراد کے ناموں کی عدم شمولیت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق حتمی فہرست کی اشاعت کے بعد بڑی تعداد میں شہریوں کی تقدیر غیر یقینی ہو گئی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے آسام کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ غیر ملکیوں سے متعلق ٹریبونل قومی و بین الاقوامی قوانین کے معیار کے مطابق شفافیت کے ساتھ کام کریں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بھارت کے سربراہ آکار پٹیل نے کہا ہے کہ غیر ملکیوں سے متعلق ٹریبونل، جو کہ لاکھوں افراد کی بھارتی شہریت کا فیصلہ کریں گے، نیم عدالتی ادارے ہیں۔ جہاں غیر ملکی قرار دیے گئے لوگوں پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ یہ ثابت کریں کہ وہ بھارتی شہری ہیں۔

ان کے مطابق متعدد رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ ان ٹربیونلز کی کارروائی میں مرضی کے فیصلے کیے جاتے ہیں جبکہ ان کے احکامات جانب دارانہ اور امتیازی رہے ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ کسی شخص کو من مانے فیصلے یا غیر واضح بنیاد پر شہریت سے محروم نہ کیا جائے۔

'کوئی ملک اپنے شہریوں کے ساتھ ایسا نہیں کرتا'

انسانی حقوق کے کارکن اور 'فورم فار سول رائٹس' کے چیئرمین سید منصور آغا نے 'وائس آف امریکہ' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ پورا معاملہ سیاسی ہے۔ یہ اقلیتوں کو ہدف بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے نام شامل نہیں ہیں۔ وہ غریب مزدور طبقے کے لوگ ہیں۔ وہ ہر سال اجڑتے ہیں اور ہر سال بستے ہیں۔ وہ یہ بات کیسے ثابت کر سکتے ہیں کہ ان کے اجداد فلاں سال میں بھارت آئے تھے اور ان کے پاس اس کے ثبوت ہیں۔

منصور آغا نے مزید کہا کہ دنیا کا کوئی ملک اپنے شہریوں کے ساتھ ایسا رویہ اختیار نہیں کرتا جیسا کہ بھارتی حکومت نے کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 20 لاکھ نہ سہی صرف 20 ہی افراد ہوں تب بھی ان کے ساتھ یہ بہت بڑا ظلم ہے۔ جن کے نام فہرست سے باہر ہیں وہ سب مظلوم انسان ہیں خواہ وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں۔

بقول ان کے اس مشق سے خاندان کے خاندان بٹ گئے ہیں۔ ایک فرد کا نام ہے جبکہ چار افراد کے نہیں ہیں۔ چار لوگوں کے ہیں تو دو فہرست میں شامل نہیں ہیں۔

منصور آغا کے مطابق بہت سے سرکاری ملازمین اور فوجیوں کے نام بھی این آر سی میں شامل نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں پر یہ بہت بڑا ظلم ہے۔ جن کی پیدائش یہاں کی ہے وہ آسام کا شہری ہے۔

سیاسی جماعتوں اور متاثرین میں شدید غم و غصہ

این آر سی کی حتمی فہرست کی اشاعت کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں اور متاثرین میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

آسام کے سابق وزیر اعلی ترون گوگوئی نے کہا ہے کہ وہ اس کارروائی سے خوش نہیں ہیں۔

ان کے مطابق بی جے پی بھی خوش نہیں ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔

ریاست کے نائب وزیر اعلی ہیمنت بسوا شرما نے کہا کہ حتمی فہرست کی اشاعت کے بعد غیر ملکیوں کو نکال باہر کرنے کی ہماری امیدیں دم توڑ گئیں۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر صدمہ پہنچا ہے کہ گورکھا برادری کے ایک لاکھ افراد کے نام فہرست سے غائب ہیں۔

ان کے مطابق فہرست نے ان تمام لوگوں کو بے نقاب کر دیا جو اس کی آڑ میں سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے کہا کہ آسام میں 40 لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کا امت شاہ کا دعویٰ بے نقاب ہو گیا ہے۔

خاتون کی خود کشی

دریں اثنا ضلع سونت پور میں ایک 42 سالہ خاتون سائرہ بیگم نے اس افواہ کے بعد کہ ان کا نام فہرست میں نہیں ہے، کنویں میں کود کر خود کشی کر لی۔

ضلعی انتظامیہ نے تردید کی ہے کہ اس واقعے کا تعلق این آر سی کے معاملے سے ہے۔

دوسری جانب خاتون کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ ان کا نام فہرست میں نہ آنے پر ہی سائرہ بیگم نے خود کشی کی ہے۔

یاد رہے کہ این آر سی کی حتمی فہرست میں تین کروڑ 10 لاکھ افراد کے نام شامل ہیں جبکہ تقریباً 20 لاکھ افراد کے نام غائب ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ اگر یہ افراد جن کے نام فہرست میں شامل نہیں ہے اپنی شہریت ثابت نہ کر سکے تو انہیں غیر ملکی قرار دے دیا جائے گا۔

  • 16x9 Image

    سہیل انجم

    سہیل انجم نئی دہلی کے ایک سینئر صحافی ہیں۔ وہ 1985 سے میڈیا میں ہیں۔ 2002 سے وائس آف امریکہ سے وابستہ ہیں۔ میڈیا، صحافت اور ادب کے موضوع پر ان کی تقریباً دو درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں سے کئی کتابوں کو ایوارڈز ملے ہیں۔ جب کہ ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں بھارت کی کئی ریاستی حکومتوں کے علاوہ متعدد قومی و بین الاقوامی اداروں نے بھی انھیں ایوارڈز دیے ہیں۔ وہ بھارت کے صحافیوں کے سب سے بڑے ادارے پریس کلب آف انڈیا کے رکن ہیں۔  

XS
SM
MD
LG