رسائی کے لنکس

logo-print

اب کشمیر میں سیاسی نہیں گوریلا جنگ ہوگی: شیخ رشید


پاکستان کی وفاقی کابینہ کے رکن اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کہتے ہیں کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کشمیریوں کو ایسے دوراہے پہ لا کھڑا کیا ہے کہ جہاں ان کے پاس بھارت کی بالادستی کو قبول کرنے یا آزادی کے لیے لڑنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔

ان کے خیال میں اب کشمیر میں جاری آزادی کی سیاسی جدوجہد، گوریلا جنگ میں تبدیل ہوجائے گی۔

اسلام آباد میں وائس آف امریکہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے اٹھائے گئے حالیہ انتہائی اقدامات نے کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کا نیا نقشہ بنا دیا ہے۔

شیخ رشید کہتے ہیں کہ کشمیریوں کی جدوجہد اب سری نگر تک نہیں رہے گی بلکہ اتر پردیش تک جائے گی۔ کشمیر میں مسلح جدوجہد کے دوبارہ اُبھرنے کے نتیجے میں بھارت پاکستان پر الزامات لگائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے حوالے سے اقدامات کا ردِ عمل بھارت کے اندر دہشت گردی کی صورت میں ہوگا، جس کا ملبہ پاکستان پر ڈالا جائے گا اور اس کے نتیجے میں بلآخر کنٹرول لائن پر نئی صورت حال جنم لے گی جو کہ جوہری جنگ کی طرف جا سکتی ہے۔

'چھ مہینے، سال میں جنگ ہوتے دیکھ رہا ہوں'
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:32 0:00

خیال رہے کہ دو روز قبل صدارتی حکم نامے کے ذریعے آئین میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کر دیا گیا تھا۔

پاکستان نے بھارت کے اس اقدام کو دو طرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں سے متصادم قرار دیتے ہوئے مسترد کیا تھا۔

شیخ رشید نے کہا ہے کہ نریندر مودی نازی ازم کی طرف جا رہے ہیں اور اس نے شملہ معاہدے سمیت اقوام متحدہ کی قرارداد کو پس پشت ڈال کر کشمیر کی خصوصی حیثیت کے حوالے سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کیا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ تمام تر ریاستی مظالم کے باوجود کشمیر میں جدوجہد آزادی کی تحریک اس قدر پروان چڑھ چکی ہے کہ اب بھارت کو عالمی معاہدوں سے صرف نظر کراتے ہوئے آئین میں تبدیلیاں کرنا پڑھ رہی ہیں۔

آرٹیکل 370 کا حوالہ دے کر انہوں نے کہا کہ بھارت میں میزو لینڈ، آسام اور ناگا لینڈ کو بھی خصوصی حیثیت حاصل ہے، لیکن نریندر مودی نے ان ریاستوں کا خصوصی مقام ختم نہیں کے۔

شیخ رشید نے کہا کہ نریندر مودی نے مولانا ابو الکلام آزاد کے فلسفے کو ختم کر دیا ہے اور بھارت کے مسلمان جنہوں نے قائد اعظم کی بات نہیں مانی تھی وہ اب کہہ رہے ہیں کہ دو قومی نظریہ درست تھا۔

'تین سے چھ ماہ کے اندر بھارت کے ساتھ جنگ'

پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدہ حالات کو کس طرف جاتا دیکھ رہے ہیں؟ اس سوال پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وہ سال چھ ماہ کے اندر بھارت کے ساتھ جنگ ہوتی دیکھ رہے ہیں۔

شیخ رشید نے کہا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا۔ پلوامہ واقعے کے بعد پیدا شدہ کشیدہ صورت حال پر اسلام آباد نے جنگ کو ٹالا۔ اگر بھارت آزاد کشمیر کے کسی بھی علاقے پر طاقت کے بل بوتے پر قبضہ کرتا ہے تو پھر ایک بڑی جنگ شروع ہو جائے گی اور پاکستان کے پاس روایتی جنگ کی اتنی گنجائش نہیں ہے اور نا ہی پاکستان پیچھے مڑ کر دیکھ سکتا ہے۔ تو پھر جوہری جنگ ہوگی۔

واضح رہے کہ رواں سال فروری میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ایک حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات اتنے کشیدہ ہو گئے تھے کہ بھارتی جنگی طیاروں نے پاکستانی علاقے بالاکوٹ میں بم برسائے جس کے جواب میں پاکستانی فضائیہ نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حملہ کیا اور ایک بھارتی طیارہ مار گراتے ہوئے اس کے پائلٹ کو تحویل میں لے لیا تھا۔

شیخ رشید نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی سوچ تھی کہ مودی انتخابات جیت کہ آتے ہیں تو مسئلہ کشمیر کے حل کے امکانات بڑھیں گے۔ لیکن اب مذاکرات کے تمام دروازے بند ہوچکے ہیں۔

کشمیر کے معاملے پر 'اُدھر تم، اِدھر ہم' کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کشمیری ایسے کسی حل کو قبول نہیں کریں گے، جس میں ان کی رضامندی شامل نہ ہو اور جب قومیں مرنے کے لیے تیار ہو جاتی ہیں تو وہ اپنا راستہ خود بناتی ہیں۔

'چین جارحانہ سفارت کاری نہیں کرتا'

چین کی جانب سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور پاکستان کے دوست ممالک کی طرف سے غیر معمولی ردعمل نہ آنے پر شیخ رشید نے کہا کہ کہ لدّاخ کے معاملے پر چین اضطراب میں ہوگا۔ چین جارحانہ سفارت کاری نہیں کرتا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ مسلح افوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ چین کے دورے پر جا رہے ہیں، جہاں پر کشمیر کی حالیہ صورت حال زیر بحث آئے گی۔

'بھارت کو افغانستان کے مسئلے پر شکست ہوئی'

حکومت کی خارجہ پالیسی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے نتیجے میں بھارت کو افغانستان کے مسئلے پر شکست ہوئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ افغان امن عمل کے حوالے سے پاکستان، امریکہ، روس اور چین سب ایک صفحے پر ہیں۔

'عمران خان کی حکومت پانچ سال مکمل کرے گی'

اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی اور بجلی کے اضافی بلوں پر عوام کی جانب سے رد عمل آ رہا ہے۔ لیکن، اپوزیشن قیادت پر بدعنوانی کے اس قدر الزامات ہیں کہ حزب اختلاف کچھ نہیں کر پائے گی اور عمران خان کی حکومت پانچ سال مکمل کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن عمران خان کا استعفیٰ لینے نکلی تھی اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر گھر کے 14 ووٹوں سے مار پڑ گئی۔

سینیٹ میں چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کو شیخ رشید نے اپوزیشن کی سیاست کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا۔

آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے سوال پر وفاقی وزیر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ یہ حساس سوال ہے۔ قمر باجوہ مستقبل پر نظر رکھنے والے اور غیر معمولی سوچ کی حامل شخصیت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرتارپور قمر جاوید باوجوہ ہی کا اقدام تھا۔

انہوں نے کہا کہ قمر جاوید باجوہ وہ آرمی چیف ہیں جن کے بارے میں چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا تھا کہ وہ اپنی ساری زندگی میں کسی آرمی چیف کو ملے ہیں تو وہ قمر جاوید باجوہ ہیں۔

واشنگٹن سے بھی قمر جاوید باجوہ کو تائیدی سند حاصل ہے کے سوال پر شیخ رشید نے کہا کہ وہ دورہ امریکہ میں ساتھ نہیں تھے، البتہ چین کے دورے پر صدر شی جن پنگ نے جنرل باجوہ کی تعریف کی تھی۔

خیال رہے کہ پاکستان کے موجودہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ رواں سال کے آخر میں ریٹائر ہو رہے ہیں جبکہ قومی ذرائع ابلاغ میں ان کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے تبصرے کیے جا رہے ہیں۔

وزیرِ اعظم عمران خان کے حالیہ دورہ امریکہ میں وہ ساتھ کیوں نہیں تھے، اس پر شیخ رشید نے کہا کہ وہ ریلوے کے وزیر ہیں اور سابق صدر پرویز مشرف کے ساتھ واشنگٹن گیا تو سب امریکی اخبارات نے لکھا کہ شیخ رشید واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان ریل کا پل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG