رسائی کے لنکس

بھارت میں لاک ڈاون: مزدور پیدل آبائی ریاستوں کو روانہ


India Lock down
India Lock down

بھارت کے معروف صحافی اور اخبار 'ملی گزٹ' کے ایڈیٹر، ڈاکٹر ظفر علی خان نے کہا ہے کہ ملک بھر میں نافذ لاک ڈائوں کے نتیجے میں ''جو بحران پیدا ہو رہا ہے اس نے بڑے پیمانے پر 'بھوک مری' (فاقہ کشی) کی وجہ سے موت کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔"

انھوں نے یہ بات لاک ڈاؤن کی صورتحال کے موضوع پر بات کرتے ہوئے، وائس آف امریکہ کو بتائی، جس کی تصدیق متعدد میڈیا رپورٹس سے بھی ہوتی ہے۔

اخبار 'انڈین ایکسپریس' نے 21 برس کے انتریش کمار کے بارے میں بتایا ہے جو دلی سے اپنے شہر مرادآباد جانے کیلئے علی الصبح تین بجے پیدل ہی نکل کھڑے ہوئے، کیونکہ وہ ایک دہاڑی مزدور ہیں اور انھیں اکیس دن کے لاک ڈاؤن کے دوران کام نہیں ملا۔

بقول ان کے، "ہم روزانہ دو سے ڈھائی سو روپے کمایا کرتے تھے۔ کاروبار بند ہوا تو کمائی بھی بند ہوگئی۔ مکان مالک کرائے کا تقاضہ کر رہا تھا۔ دوکانیں بند ہونے کی وجہ سے کہیں پر کھانا بھی نہیں مل رہا تھا۔ اب واپس نہ جائوں تو کیا کروں؟۔"

پبلک ٹرانسپورٹ بند ہونے کے باعث وہ پیدل ہی نکل پڑے۔ انہیں پونے دو سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا ہے۔

پیدل چلنے والےخاندان یہ بھی جانتے ہیں کہ شاید راستے میں کئی جگہ انہیں پولیس کی چیکنگ اور سختی کا نشانہ بھی بننا پڑے۔ ملک گیر لاک ڈاؤن سے لاکھوں ایسے محنت کش جو روزانہ مزدوری کرکے اپنا پیٹ پالتے ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ شہروں میں کھانے کے لالے پڑ گئے ہیں۔ اس لیے پیدل ہی وطن جانے کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق، احمدآباد میں دوسری ریاستوں سے آئے ہوئے دو ہزار سے زائد مزدور منگل کی شام کو ہی پیدل اپنے علاقوں کی طرف روانہ ہو رہے تھے۔

انسانی حقوق کے ممتاز رہنماؤں میں سے ایک، ہرش مندر ہیں۔ ان کی تنظیم نے دہلی میں لوگوں کو کھانا فراہم کرنے کا انتظام کیا۔ وہ کہتے ہیں،"نیشنل لاک ڈاؤن کےدوسرے ہی دن اور دلی کے لاک ڈاؤن کے چوتھے روز ہم نے یہ صورت حال دیکھی کہ ایک ہزار، دو ہزار، دس ہزار لوگ گھنٹوں تک کھانے کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں۔"

ان انتظار کرنے والوں میں سے ایک نے کہا کہ "کئی دن سے ہم نے روٹی کی شکل نہیں دیکھی، جبکہ انہی ہاتھوں سے ہم کھانا پکا کر کھلاتے تھے۔"

ہرش مندر کہتے ہیں کہ اس بھیڑ میں عورتیں اور بچے بہت کم نظر آتے ہیں۔ بقول ان کے،"یہ اور بھی پریشانی کی بات ہے کہ وہ زیادہ مصیبت میں ہیں، کیونکہ جس طرح کی بھیڑ ہے اس میں وہ آگے کیسے آئیں؟"۔

ان کا کہنا ہے کہ بڑے ملک تو ایسا مکمل لاک ڈاؤن کر سکتے ہیں، جہاں لوگوں کے پاس گھر ہیں، وسائل اور سوشل سیکیوریٹی ہے۔ لیکن، ہم نہیں۔ کرونا وائرس بہت بڑا روگ ہے۔ لیکن، اس سے بھی بڑا روگ غریبی اور بھوک ہے۔"

ان کا اور بہت سے کارکنوں کا کہنا ہے کہ لوگ کرونا وائرس سے نہیں بلکہ بھوک سے مرجانے سے خوفزدہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے غریب ملکوں میں سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی خلاف ورزی، کھانے اور راشن کی تقسیم کے مقامات پر نظر آتی ہے۔

دلی سے پنجاب جانے والے ایک شخص نے کہا کہ" کم از کم گھر میں ہمیں کھانے کو تو ملے گا''۔

XS
SM
MD
LG