رسائی کے لنکس

بھارت میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے 'جنتا کرفیو'


فائل فوٹو

بھارت میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے 'جنتا کرفیو' (یعنی عوام کے کرفیو) پر عمل کیا جا رہا ہے۔

بھارت کے تمام چھوٹے بڑے شہر اتوار کو بند رہے جب کہ بڑی شاہراہوں کے ساتھ ساتھ دیگر سڑکیں بھی ویران ہیں۔ مارکیٹس، بازار اور کاروباری مراکز بھی بند ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ اتوار 22 مارچ کو صبح سات بجے سے رات نو بجے تک 'جنتا کرفیو' لگائیں اور بلا ضرورت گھروں سے نہ نکلیں۔ انہوں نے ہفتے کی شام بھی ایک ٹوئٹ کرکے لوگوں کو گھروں میں رہنے کے لیے کہا تھا۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق عوام ایک روز قبل ہی جنتا کرفیو کا حصہ بننا شروع ہو گئی تھی۔

ہفتے کو ملک کے مصروف علاقوں مثلاً دہلی کا کناٹ پلیس اور سروجنی نگر، ممبئی کا مرین ڈرائیو اور چھترپتی شیوا جی مہاراج اسٹیشن اور کلکتہ کا نیو مارکیٹ ایریا پوری طرح ویران نظر آ رہے تھے۔

دہلی میں میٹرو ٹرینیں سروس اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند رہی۔

جنتا کرفیو پر عمل در آمد کے لیے پولیس اور سیکیورٹی فورسز تعینات ہیں۔ اگر کوئی شخص کہیں نظر آتا ہے تو اسے زبردستی گھر واپس بھیجا جا رہا ہے۔

دیہی علاقوں میں بھی کرفیو کی سختی سے پابندی کی جا رہی ہے۔

متعدد علاقوں میں سول ڈریس میں بھی سیکیورٹی فورسز کے جوان گھوم رہے ہیں۔

وزارت صحت کے مطابق خود نافذ کردہ کرفیو کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں مدد دے گا۔

لازمی خدمات کے علاوہ دیگر تمام چیزیں بند ہیں۔ محکمہ ریلوے نے 300 سے زائد ٹرینیں منسوخ کر دی ہیں۔

بھارت میں کرونا وائرس کیسز کی تعداد 370 تک پہنچ گئی ہے جب کہ ہلاک شدگان کی تعداد 6 ہے۔

دہلی میں مکمل لاک ڈاؤن

دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے دارالحکومت دہلی میں پیر کی صبح 6 بجے سے 31 مارچ کی نصف شب تک مکمل لاک ڈاون کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے لیفٹننٹ گورنر انل بیجل کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں اس کا اعلان کیا۔

اس سے قبل دہلی پولیس نے پورے شہر میں31 مارچ کی نصف شب تک دفعہ 144 کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔

پولیس کے مطابق اس دوران تمام قسم کے اجتماعات، مظاہروں اور جلوس پر مکمل پابندی رہے گی۔

اس کا اطلاق اتوار اور پیر کی درمیانی شب 9 بجے سے ہو گیا۔ اس دوران تمام قسم کے سماجی، سیاسی، ثقافتی، تعلیمی اور دوسرے پروگرام بند رہیں گے۔

سبزیوں، پھلوں، ادویات اور لازمی اشیا کی دکانوں کے علاوہ تمام قسم کی دکانیں بند رہیں گی۔ میٹرو ریل خدمات بھی پوری طرح معطل رہیں گی۔

شاہین باغ میں چپل رکھ کر احتجاج

شاہین باغ کے مظاہرین نے اگرچہ اپنے احتجاج کو بند کرنے کا اعلان نہیں کیا ہے تاہم اتوار کے روز بس صرف دو دادیاں ہی احتجاج گاہ میں بیٹھی رہیں۔ البتہ تمام تختوں پر ایک ایک چپل رکھ کر علامتی انداز میں احتجاج کا تسلسل قائم رکھا گیا۔ جبکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ نے اپنا احتجاج عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔

ادھر آج دن بھر پورے ملک میں جنتا کرفیو پر عمل کیا گیا۔ پورے ملک میں سناٹا رہا۔ سڑکیں سنسان رہیں۔ کہیں بھی کوئی گاڑی چلتی ہوئی نظر نہیں آئی۔ البتہ کہیں کہیں لازمی اشیا کی دکانیں کھلی رہیں۔

پورے ملک میں جگہ جگہ پولیس تعینات رہی۔ اگر کہیں کوئی شخص باہر نظر آیا تو اسے اس کے گھر بھیج دیا گیا۔ کہیں کہیں پولیس نے جنتا کرفیو پر عمل درآمد کے لیے سختی بھی کی۔

کئی ریاستوں میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ

اسی دوران مرکزی و ریاستی حکومتوں نے ان 75 اضلاع میں جہاں کروناوائرس کے کیسز پائے گئے ہیں مکمل لاک ڈاون کا فیصلہ کیا ہے۔ 31 مارچ تک پورے ملک میں ٹرین خدمات معطل کر دی گئی ہیں اور بین ریاستی بسیں بھی نہیں چلیں گی۔

جن اضلاع میں لاک ڈاون کا فیصلہ کیا گیا ہے وہ اترپردیش، مہاراشٹر، پنجاب، کرناٹک، تمل ناڈو، ہریانہ اور کیرالہ ریاستوں کے ہیں۔

الگ الگ ریاستوں کی حکومتیں بھی اپنے طور پر الگ الگ اعلانات کر رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG