رسائی کے لنکس

logo-print

حکومتوں اور مالکان کو ڈانٹنے والا چلا گیا


پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سابق صدر احفاظ الرحمان گزشتہ اتوار کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ ان کی عمر 78 سال تھی۔

احفاظ الرحمان پاکستان میں صحافت کی احتجاجی تحریک کا بڑا نام تھے۔ ان کا شمار منہاج برنا اور ضمیر نیازی جیسے صحافی رہنماؤں میں کیا جاتا تھا۔

انھوں نے 'نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن' (این ایس ایف) کے رہنما کی حیثیت سے ایوب خان کے دور میں طلبہ کی احتجاجی تحریک میں حصہ لیا۔ ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے ادوار میں آزادی صحافت کی تحریکوں میں گرفتار ہوئے۔ صحافیوں کی ملک گیر تنظیم 'پی ایف یو جے' کے صدر بھی رہے۔

احفاظ الرحمان ضیاء دور میں بلیک لسٹ ہوئے تو چین جاکر کئی سال اردو پڑھاتے رہے۔ واپس آکر جنگ اور ایکسپریس میں میگزین ایڈیٹر رہے۔ ان کی شاعری اور تراجم کے علاوہ صحافتی جدوجہد پر ایک کتاب "سب سے بڑی جنگ" کے عنوان سے شائع ہوچکی ہے۔

احفاظ الرحمان زندگی بھر آزادی صحافت کے لیے سرگرم رہے۔ وہ نظریاتی آدمی تھے اور عملی جدوجہد پر یقین رکھتے تھے۔ وہ صرف حکومتوں کے خلاف نہیں، میڈیا مالکان کے خلاف بھی آواز بلند کرتے تھے۔ وہ ان صحافیوں میں شامل تھے جو اپنے ادارے کے مالک سے اختلاف کرنے کی جرات رکھتے تھے اور انھیں کڑی تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔

احفاظ الرحمان کئی سال سے گلے کے کینسر میں مبتلا تھے اور بول نہیں سکتے تھے۔ وائس آف امریکہ نے 2018 میں انھیں سوالات ارسال کیے اور انھوں نے لکھ کر جوابات بھیجے۔

15 اکتوبر 2018 کو شائع کیا گیا ان کا آخری انٹرویو یہاں دوبارہ پیش کیا جارہا ہے۔

سوال: پی ایف یو جے کہتی ہے کہ میڈیا کو سنسرشپ کا سامنا ہے۔ کیا آپ متفق ہیں؟ کیا یہ ضیا دور جیسی سنسرشپ ہے؟

احفاظ الرحمان: اب سب، جن میں سی پی این ای اور اے پی این ایس بھی شامل ہیں، واضح الفاظ میں اور بار بار تسلیم کر چکی ہیں کہ زخم رسیدہ میڈیا سینسر شپ کی زد پر ہے اور بے چارگی کی مجسم کہانی بن کر رہ گیا ہے۔ اس دور میں، عیاں اور نہاں، اس قدر شدید عذاب مسلط کر دیا گیا ہے کہ اس کی مثال ماضی میں نظر نہیں آتی۔ نئے نئے حربے ایجاد کیے جا رہے ہیں۔ پوری اسٹیبلشمنٹ، جس میں متعدد ایجنسیوں کا کردار نمایاں ہے،کھلم کھلا کہتی ہیں کہ ہمارے سامنے سب سر جھکا کر رہو، ورنہ گردن دبا دی جائے گی۔ اس دعوے کی تائید میں بے شمار ناقابل تردید مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ اس دور میں ضیا دور سے زیادہ عیاری کے ساتھ میڈیا کے لیے مشکلات کھڑی کی جا رہی ہیں۔​

سوال: کیا وجہ ہے کہ ایڈیٹرز اور نیوز ڈائریکٹرز کمزور ہو گئے ہیں اور مالکان نیوز روم پر قابض ہیں؟ ایڈیٹرز کیوں اپنے کردار سے دست بردار ہو گئے ہیں؟

احفاظ الرحمان: ورکنگ ایڈیٹر کا منصب طویل عرصے سے زوال پذیر ہے۔ ورکنگ ایڈیٹر حقائق کو جوں کا توں پیش کرتا ہے، کوئی کمی بیشی اس کے نزدیک روا نہیں ہوتی اور اُسے صحافتی اخلاقیات ازبر ہوتی ہیں۔ ایک طرف وہ مقتدر طبقات کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوتا ہے اور دوسری طرف اشتعال انگیزی، سنسنی خیزی اور عریاں نگاری سے گریز کرتا ہے۔ اسے اپنے پیشے کی حرمت کا پاس ہوتا ہے۔ کوئی طاقت، کوئی فتنہ گر اسے اپنے سامنے جھکا نہیں سکتا۔
ایک زمانے میں حالات بہتر تھے، جب پی ایف یو جے ایک تھی اور سی پی این ای بھی اطاعت گزار نہیں تھی۔ مالکان باوقار اور حقیقی صحافیوں سے مرعوب رہتے تھے۔ پھر انھوں نے رفتہ رفتہ اپنے مالی و طبقاتی مفادات کو فروغ دینے کے لیے خیمے کے اندر گھسنا شروع کیا اور اصل کرداروں کو نکال باہر پھینکا۔ افسوس، کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا۔ اکثر ایڈیٹر اور نیوز ایڈیٹر موقع پرستی کا راتب کھانے لگے۔ ذاتی مفادات کی تکمیل ان کا مشن بن گیا۔ بعض واقعتاً مجبور تھے لیکن بیشتر محض اپنی کھال بچانے کے لیے گنگا نہانے کے راستے پر چل نکلے۔ عافیت کی تلاش میں وہ اپنے اصل کردار سے محروم ہوتے چلے گئے۔ اب خبروں اور مضامین کے نام پر محض عبرت کی داستانیں شائع کر رہے ہیں۔

سوال: اخبارات اور نیوز چینل کارکنوں کو نکال رہے ہیں اور بڑے میڈیا گروپس بھی وقت پر تنخواہیں نہیں دے پا رہے۔ اس زوال کا کیا سبب ہے؟ کیا مستقبل میں کچھ اخبارات اور چینل بند ہونے کا خطرہ ہے؟

احفاظ الرحمان: اخبارات اور نیوز چینل دھڑا دھڑا کارکنوں کو نکال رہے ہیں اور زیادہ مال دار گروپ بھی تنخواہیں نہیں دے رہے۔ احتجاج کے سارے دروازے، ساری زبانیں بند ہیں۔ اخباری کارکن زبانی جمع خرچ اور کاغذی دھمکیوں پر جدوجہد کی عمارت کھڑی کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن کردار کی پستی کے باعث فعال آواز اٹھانے کے قابل نہیں رہے۔ کمزور افراد کی کمزور آوازوں کے سامنے مالکان کی من مانیاں یقیناً بڑھتی رہیں گی۔ اخبارات اور چینل بند ہونے کے امکانات تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں۔ جب قربانی دینے کا جذبہ نہیں ہو گا تو زور آور طاقتیں آپ کی پشت میں سلاخیں پیوست کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ خاموش تماشائیوں کے سامنے ہر قسم کے کرتب کامیاب ہو جاتے ہیں۔

سوال: پرانے چینلوں کا حال خراب ہے تو نئے چینل کیسے آئے جا رہے ہیں؟

احفاظ الرحمان: جی ہاں، نئے چینل بھی کھل رہے ہیں۔ یہ کوئی جادوگری نہیں۔ ایک عرصے سے میڈیا میں یہ چلن عام ہو گیا ہے کہ خالص کاروباری سیکٹر کے طالع آزما میڈیا میں گھستے جا رہے ہیں۔ صحافت کے روشن کرداروں کو اجاگر کرنا ان کا مقصد نہیں ہے۔ ان کے پاس بیت المال ہے، لوٹ مار کے سارے سامان ان کے قبضے میں ہیں۔ وہ میڈیا میں آ کر اپنا سوشل سٹیٹس بڑھانا چاہتے ہیں۔ بلند سوشل سٹیٹس کی بنیاد پر بلیک میلنگ کرنا ان کے نزدیک آسان ہے۔ اس راہ سے وہ با آسانی اپنے تجارتی و مالی مفادات کو بڑھاوا دیتے ہیں۔

سوال: صحافی متحد کیوں نہیں ہو رہے؟ کیا اس انتشار میں مالکان اور اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی جیتی جا سکتی ہے؟

احفاظ الرحمان: بے کردار گندم، کاجو فروشوں نے ذاتی سود اور مالی مفادات کے لیے پی ایف یو جے کی تقسیم در تقسیم میں بی جمالو کا کردار ادا کیا اور کامیاب رہے۔ یہ بے چہرہ لوگ سر سے پاؤں تک سیاہی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ میں اس بات سے قطعی متفق نہیں کہ کوئی بیرونی عامل انھیں تقسیم کر رہا ہے۔ یہ تماشا ’’کرنی‘‘ کا پھل ہے۔ یہ پھل وہ اس وقت تک کھاتے رہیں گے، جب تک خود غرضوں کی قبر سے باہر نکلنے کی جستجو سچے دل سے نہیں کریں گے۔
یہ تو ظاہر ہے کہ اس نفاق کے باعث وہ مالکان اور اسٹیبلشمنٹ سے تو کیا، ان کے معمولی کارندوں سے بھی کوئی لڑائی نہیں جیت سکتے۔ یہ لوگ عام گلی کوچوں اور بازاروں میں احتجاج کرنے کے بجائے محض پریس کلبوں کے سامنے دس بیس کی تعداد میں جمع ہو کر خوف زدہ آوازوں میں نعرے بلند کرتے ہیں۔ وہاں سے نکل کر دفتر میں آ کر اپنے زخم چاٹتے ہیں۔ جب تک ریگل چوک، لکشمی چوک، حسین آگاہی اور قصہ خوانی میں اخباری کارکنوں کے جلوس نہیں نکلیں گے، حالات نہیں بدلیں گے۔ ان دس بیس کاغذی احتجاجیوں کا عمل بنجر رہے گا۔
ان کا حال اس ناٹک جیسا ہے:

’’دیکھیے،جناب مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے، ہماری تنخواہوں میں فوری اضافہ کر دیں۔۔۔ ورنہ!‘‘

’’ورنہ کیا؟‘‘

کچھ نہیں حضور، ورنہ ہم اسی تنخواہ پر کام کرتے رہیں گے۔‘‘

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG