رسائی کے لنکس

logo-print

'میر شکیل الرحمن کی گرفتاری میڈیا مالکان کو تنبیہ ہے'


(فائل فوٹو)

امریکی ریاست نیویارک میں قائم صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم 'کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس' نے جیو گروپ کے مالک اور روزنامہ جنگ کے ایڈیٹر اِن چیف میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اُن کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

پیرس میں قائم 'رپورٹرز ود آؤٹ بارڈر' نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ پاکستان کے صحافیوں کی ملک گیر تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے مختلف دھڑوں اور ایڈیٹرز کی تنظیم نے بھی میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کو آزادی صحافت پر پابندی قرار نہیں دے رہی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر مہدی حسن کہتے ہیں کہ میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کسی خبر کے حوالے سے نہیں ہے۔ البتہ یہ دباؤ ڈالنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم بخاری سمجھتے ہیں کہ یہ 34 سالہ پرانا کیس ہے۔ اسے جس طرح بنایا گیا ہے اس سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہویے سلیم بخاری نے کہا کہ نیب کے ساتھ میر شکیل الرحمان اور جنگ گروپ کی مخاصمت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ نیب کے چیئرمین کی مبینہ ویڈیو اسکینڈل کو جس طرح سے جیو نے چلایا تھا اُس وقت سے اُن کو دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ نیب نے انہیں بلایا کاغذات کی تصدیق کے لیے اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

سلیم بخاری کے بقول میر شکیل الرحمن کی گرفتاری انتقامی کارروائی کا نتیجہ لگتی ہے۔ جس دن اُنہیں ریمانڈ کے لیے لیجایا گیا، اُسی دن ایک من پسند میڈیا گروپ کے ذریعے اُن کی جیل کی سلاخوں کے پیچھے تصویر جاری کرا دی گئی۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار عدنان عادل کہتے ہیں کہ میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری آزادی صحافت پر حملہ نہیں ہے۔ وہ اِس کیس کو اُس وقت سے جانتے ہیں جب یہ زمین میر شکیل کو تحفے میں دی گئی تھی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے عدنان عادل نے بتایا کہ 1985 میں جب جنرل (ر) ضیاء الحق نے نواز شریف کو وزیراعلٰی پنجاب نامزد کیا تھا تو کل تین اُمیدوار تھے۔ مخدوم صاحبزادہ حسن محمود، ملک اللہ یار اور تیسرے نواز شریف تھے۔

چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال (فائل فوٹو)
چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال (فائل فوٹو)

روزنامہ جنگ نے نواز شریف کے حق میں مہم چلائی تھی اور بڑے بڑے رنگین صفحات شائع کیے تھے۔

عدنان عادل نے بتایا کہ جب نواز شریف وزیراعلٰی نامزد ہو گئے اور اُنہوں نے کام شروع کر دیا تو اُنہوں نے انعام کے طور پر یہ اراضی دی تھی۔ جہاں ایک بہت بڑا محل تعمیر کیا گیا۔

عدنان عادل کے بقول نواز شریف نے میر شکیل الرحمان کو 54 کنال اراضی دی تھی۔ اُس وقت کے ڈی جی ایل ڈی اے نے نقشہ پاس کرنے سے انکار کیا، لیکن دباؤ آنے پر ایک ہی دن میں نقشہ پاس ہو گیا۔

عدنان عادل کے بقول اُس وقت یہ کہا گیا تھا کہ یہاں صحافی کالونی بنے گی۔ یہ کیس بہت پرانا ہے۔ لیکن حکومتوں نے سیاسی مصلحتوں کے باعث اسے نہیں چھیڑا۔ اب چوں کہ ایسی حکومت ہے جس کے میر شکیل الرحمن کے ساتھ تعلقات ٹھیک نہیں، لہذٰا یہ کیس دوبارہ کھول دیا گیا۔

سلیم بخاری کہتے ہیں کہ اگر اِس چیز کو مان لیا جائے کہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کے پیچھے چیئرمین نیب کا ہاتھ ہے تو یہ آزادی صحافت پر حملہ ہے۔

سلیم بخاری کے مطابق “اِس سے پہلے ڈان اخبار کو مثال بنا دیا گیا۔ کچھ عرصہ قبل تک فوجی چھاؤنیوں میں جیو کا داخلہ بند تھا۔ کینٹ کے علاقوں میں جیو ٹی وی کو اجازت نہیں تھی، یہی حال ڈان کے ساتھ ہے۔"

سلیم بخاری کے بقول میڈیا پر دباؤ ڈالنا قابل مذمت ہے اور ناقابل برداشت ہے۔ پورے میڈیا سے آوازیں اُٹھ رہی ہیں۔ ملکی اور عالمی صحافتی تنظیمیں ردعمل دے رہی ہیں۔

عدنان عادل سمجھتے ہیں کہ میر شکیل الرحمٰن کو ایک قسم کی سیاسی رشوت دی گئی تھی۔ میر شکیل الرحمٰن مختلف حکومتوں کے حق میں مہم چلاتے ہیں یا کسی کے خلاف مہم چلاتے ہیں تو یہ مختلف حکومتوں سے فائدے اٹھاتے رہے ہیں۔ یہ کلچر پاکستان میں رہا ہے۔

عدنان عادل نے کہا کہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری باقی میڈیا ہاوسز کے لیے بھی ایک قسم کی تنبیہ ہے۔

میر شکیل الرحمن کا 12 روزہ جسمانی ریمانڈ

میر شکیل الرحمان کو جمعے کو جسمانی ریمانڈ کے لیے احتساب عدالت لاہور میں پیش کیا گیا۔

احتساب عدالت کے جج امیر محمد خان نے استفسار کیا کہ ملزم کو گرفتار کیوں کیا گیا ہے؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر حافظ اسداللہ نے نے عدالت کو بتایا کہ میر شکیل نے نہ تو انہیں ریکارڈ دیا نہ تحقیقات میں تعاون کیا۔

میر شکیل الرحمان کے وکیل اعتزاز احسن نے عدالت کو بتایا کہ گرفتاری کے وقت میر شکیل کو وارنٹ گرفتاری نہیں دیے گئے۔ یہ 34 سال پرانا الزام ہے۔ میر شکیل الرحمان نے کبھی پبلک آفس ہولڈ نہیں کیا۔ یہ کاروباری افراد کی فہرست میں آتے ہیں۔

اعتزاز احسن نے بتایا کہ شکیل الرحمان کو پہلے جواب دینے کا موقع دیا جانا چاہیے تھا۔ اس کیس میں نہ جسمانی ریمانڈ اور نہ ہی جوڈیشل ریمانڈ بنتا ہے۔ عدالت میر شکیل کو رہا کرے۔

احتساب عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد میر شکیل الرحمان کا 12 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ نیب لاہور نے میر شکیل الرحمان کو جمعرات کو نیب دفتر طلبی کے موقع پر گرفتار کیا تھا۔

حکومتی موقف

معاون خصوصی فردوش عاشق اعوان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ادارے غیرجانبدارانہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے۔

فردوس اعوان نے کہا کہ نیب کی کارکردگی پر اُن کی حکومت کو بھی کچھ اعتراضات ہیں۔ نیب کو اِس کیس کی پیشرفت کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے اور جن حقائق کی بنیاد پر گرفتاری ہوئی ہے اُس کو سامنے لانا چاہیے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ امید ہے کہ میر صاحب کے کیس میں عدالت مکمل انصاف کرے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG