تحریکِ عدم اعتماد: قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کا نمبر گیم کیا ہے؟
پاکستان کی قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کو ہو رہا ہے۔ جہاں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔ لیکن کیا عمران خان کے خلاف یہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو سکے گی؟ اس کا دارومدار حکومت اور اپوزیشن کو حاصل ہونے والے ووٹوں پر ہے۔ قومی اسمبلی میں اس وقت دونوں فریقین کے پاس کتنے اراکین ہیں؟ بتا رہی ہیں گیتی آرا انیس
'تحریک عدم اعتماد کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ 30 یا 31 مارچ تک ہوجائے گا'
پاکستان کے وزیرِداخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ عمران خان ایک آزاد خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
پیر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ صرف پاکستان کے ساتھ ہے۔ 30 یا 31 مارچ کو فیصلہ ہو جائے گا کہ عدم اعتماد کامیاب ہوگی یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ تحریکِ عدم اعتماد سے ایک گھنٹے قبل تک صورتِ حال تبدیل ہو سکتی ہے۔
پنجاب اسمبلی میں نمبر گیم کیا ہے؟
وفاق کے بعد پنجاب میں بھی اپوزیشن وزیرِاعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لے آئی ہے۔ جس کے بعد اسمبلی میں نمبر گیم کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
پنجاب اسمبلی میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 183 اراکین ہیں جب کہ اپوزیشن جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے 165 اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے سات اراکین ہیں۔
اس کے علاوہ حکمراں جماعت کی اتحادی پاکستان مسلم لیگ (ق) کے 10 اراکین بھی اسمبلی کی رکنیت رکھتے ہیں۔ البتہ اس وقت مسلم لیگ (ق) اپوزیشن جماعتوں سے رابطے میں بھی ہے۔
اسمبلی میں آزاد امیدواروں کی تعداد پانچ ہے جب کہ پاکستان راہِ حق پارٹی کا ایک رکن بھی شامل ہے۔
اگر اپوزیشن کو وزیرِاعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب بنانی ہے تو اسے 186 ارکان کی حمایت درکار ہو گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف بھی اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد جمع
اپوزیشن نے وفاق کے بعد صوبۂ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف بھی تحریکِ عدم اعتماد جمع کرادی ہے۔
پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ میں مسلم لیگ (ن) کے اراکین رانا مشہود، سمیع اللہ خان، میاں نصیر اور دیگر نے عثمان بزدار کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کرائی ہے۔ جس پر حزبِ اختلاف کے اراکین کے دستخط ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا مشہود اور خواجہ سعد رفیق نے بھی عدم اعتماد کی تحریک جمع کرانے کی تصدیق کی ہے۔
عدم اعتماد کی تحریک جمع ہونے کے بعد وزیرِ اعلیٰ اسمبلی تحلیل نہیں کرسکتے جب کہ تحریک کے جمع ہونے کے بعد اسپیکر 14 روز میں اسمبلی اجلاس بلانے کے بھی پابند ہیں۔