رسائی کے لنکس

Shehbaz Sharif
Shehbaz Sharif

کسی کو ڈکٹیشن دینے کی ضرورت نہیں، الیکشن کب ہوں گے یہ فیصلہ پارلیمنٹ کو کرنا ہے: شہباز شریف

12:09 30.3.2022

عمران خان نے ٹیم کو بتا دیا آخری گیند تک مقابلہ کریں گے: فیصل جاوید

حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے آج صبح اپنی ٹیم سے کہا ہے کہ آخری گیند تک مقابلہ کریں گے اور انشاء اللہ فتح سے ہم کنار ہوں گے۔

فیصل جاوید نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ اللہ حق اور سچ کے ساتھ ہوتا ہے، فتح عمران خان کی ہی ہے، فتح عوام کی اور پاکستان کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی نے بھی گھبرانا نہیں ہے، حق کے ساتھ کھڑے ہونے پر وہ قوم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

12:04 30.3.2022

تحریک عدم اعتماد؛ 'امریکہ کو پاکستان میں تبدیلی سے کوئی دلچسپی نہیں'

فائل فوٹو
فائل فوٹو

وزیرِ اعظم عمران خان کو عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا ہے، ایسے میں امریکہ سمیت دنیا کے دیگر بڑے ممالک حالات و واقعات کو نظر انداز نہیں کرسکتے تاہم حکومت کی تبدیلی ان کے نزدیک اس ملک کا اندرونی معاملہ ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان کا خط دکھا کر یہ دعویٰ کرنا کہ کوئی بیرونی طاقت ان کا اقتدار ختم کرنا چاہتی ہے، ماہرین کے نزدیک ایسا دعویٰ ہے جس کی تصدیق مشکل ہے۔ کم از کم امریکہ میں عالمی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ کو پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کی کسی کوشش سے کوئی دلچسپی نہیں۔

رابن رافیل امریکہ کی ایک سابق نائب وزیرخارجہ برائے ساؤتھ اینڈ سینٹرل ایشیا، سابق سفارت کار اور پاکستانی امور کی ماہر ہیں۔ وہ کہتی ہیں، "صرف اس لیے ہی نہیں کہ ہم جمہوریت میں یقین رکھتے ہیں اور وزیرِ اعظم کو لوگوں نے منتخب کیا ہے۔ اور اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوتی جو پاکستان کے سیاسی نظام کے مطابق پیش کی گئی ہے تو انہیں اپنی مدت پوری کرنی چاہیے۔"

ان کے بقول امریکہ میں ویسے بھی پاکستان میں کسی تبدیلی سے کوئی دلچسپی نہیں پائی جاتی کیوں کہ پاکستان کی متعدد سیاسی جماعتوں کے ساتھ دونوں ہی طرح کے تجربات رہے ہیں بعض اچھے اور بعض اتنے اچھے نہیں رہے۔

مزید پڑھیے

12:01 30.3.2022

پرویز الہٰی کی بطور وزیرِ اعلٰی نامزدگی: 'وفاق میں حکومت بچے گی تو پنجاب کی باری آئے گی'

وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کے لیے چوہدری پرویز الہٰی کو اُمیدوار نامزد کیے جانے کے بعد صوبے کی سیاسی صورتِ حال دلچسپ ہو گئی ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق چوہدری پرویز الہٰی کے لیے وزارتِ اعلٰی کے حصول تک کا سفر آسان نہیں ہو گا۔

پنجاب کی سیاسی صورتِ حال پر غور کے لیے پنجاب کی سیاست کے اہم فریق جہانگیر ترین گروپ نے اپنا اجلاس طلب کر لیا ہے جس کے رہنما علیم خان کے چوہدری پرویز الہٰی سے تعلقات میں تناؤ پایا جاتا ہے۔

مبصرین سمجھتے ہیں کہ عمران خان نے اگر پرویز الٰہی کو صوبہ پنجاب کا وزیراعلٰی نامزد کر کے اپنا ترپ کا پتا کھیلا ہے تو یہ سیاسی چال اُنہیں نقصان زیادہ اور فائدہ کم دے گی۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم بخاری کہتے ہیں کہ موجودہ سیاسی منظر نامہ خوفناک ہوتا جا رہا ہے اور حالات کسی ایک جانب جاتے دکھائی نہیں دے رہے۔

مزید پڑھیے

04:00 30.3.2022

ایم کیو ایم کا اپوزیشن کے ساتھ معاہدہ طے، " متحدہ کو سوچ سمجھ کر ایسا حساس فیصلہ کرنا چاہیے"

پاکستان تحریک انصاف حکومت کی اہم اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے حکومتی اتحاد سے علیحدگی کے لیے حزب اختلاف کے اتحاد کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔

اس معاہدے کو ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی اور پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی منظوری سے مشروط کیا گیا ہے۔

شہباز شریف نے وائس آف امریکہ کے نمائندے علی فرقان کے سوال پر کہا کہ ایم کیو ایم کے ساتھ معاہدہ طے پا جانے پر وہ خوش ہیں اور کل تک اس کا باضابطہ اعلان کردیا جائے گا۔

ایم کیو ایم کے سینٹر فیصل سبزواری کے مطابق معاہدے کا باضابطہ اعلان بدھ کی شام چار بجے کیا جائے گا۔

اس کے نتیجے میں ایم کیو ایم حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہوجائے گی اور وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم پر حزب اختلاف کی حمایت کرے گی۔

ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں سات اراکین ہیں جن کی حمایت ختم ہونے سے تحریک انصاف کی حکومت عددی اکثریت کھو بیٹھے گی۔

ایم کیو ایم کی حمایت ملنے کی صورت میں حزب اختلاف کی قومی اسمبلی میں عددی تعداد 177 تک پہنچ جائے گی جو کہ عدم اعتماد کے لیے درکار 172 کا ضروری ہندسہ پورا کرتی ہے۔

منگل کو رات گئے حزب اختلاف کے رہنما شہباز شریف، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان، سردار اختر مینگل، بلاول بھٹو اور خالد مگسی ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے پاس پہنچے اور کئی گھنٹے تک بات چیت کے بعد معاہدے کو حتمی شکل دی گئی۔

ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول صدیقی، عامر خان، امین الحق، وسیم اختر، فیصل سبزواری، خواجہ اظہار اور دیگر رہنماؤں نے متحدہ اپوزیشن کے قائدین کے ساتھ اپنے مطالبات پر بات چیت کی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ معاملات طے ہو چکے ہیں اور ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کا اپنی جماعتوں کو اعتماد میں لینا ان کا حق بنتا ہے۔

ایم کیو ایم کے سینئر رہنما فیصل سبزواری نے متحدہ اپوزیشن کے قائدین سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ یہ معاہدہ وزارتوں کے حصول کے لیے نہیں بلکہ سندھ کی شہری آبادیوں کے حقوق کو سامنے رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد سے ملک میں سیاسی غیر یقینی میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

مسلم لیگ ق حکومت کے ساتھ رہنے اور بلوچستان عوامی پارٹی حزب اختلاف کی حمایت کرنے کا اعلان کر چکی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے وفاقی وزراء امین الحق اور فروغ نسیم بدھ کی سہہ پہر اپنی وزارتوں سے مستعفی ہوجائیں گے۔

حزب اختلاف کے ساتھ معاہدہ طے پا جانے کے بعد حکومتی وفد بھی ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے پاس پارلیمنٹ لاجز پہنچا۔

وفاقی وزیر پرویز خٹک اور گورنر سندھ عمران اسماعیل نے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں کو حکومت کی حمایت قائم رکھنے پر قائل کرنے کی کوشش کی۔

ملاقات کے بعد عمران اسماعیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کا اتحاد غیر فطری ہے اور متحدہ کو سوچ سمجھ کر ایسا حساس فیصلہ کرنا چاہیے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG