رسائی کے لنکس

Shehbaz Sharif
Shehbaz Sharif

کسی کو ڈکٹیشن دینے کی ضرورت نہیں، الیکشن کب ہوں گے یہ فیصلہ پارلیمنٹ کو کرنا ہے: شہباز شریف

08:11 31.3.2022

جب پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ صرف 18 نشستیں رکھنے والی جماعت کو دی گئی

پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت۔
پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت۔

پنجاب اسمبلی میں دس نشتیں رکھنے والی جماعت کے امیدوار کی وزارتِ اعلیٰ کے لیے نامزدگی پہلی بار نہیں ہوئی۔ اس سے قبل بھی پنجاب میں ایک بار 18 نشستوں والی جماعت کا اُمیدوار وزیرِ اعلیٰ منتخب ہو چکا ہے۔

یہ 1993 کی بات ہے جب مرکز میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکومت بنی تھی اور مسلم لیگ(ن) کو اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنا پڑا تھا۔ اس وقت پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان سیاسی کشمکش کے باعث قرعہ فال مسلم لیگ (جونیجو) کے نام نکلا تھا اور میاں منظور احمد وٹو پیپلز پارٹی کے ساتھ صوبے کی مخلوط حکومت کے وزیرِ اعلیٰ بنے تھے۔ بدلے میں پیپلز پارٹی کو صوبائی کابینہ میں بڑا حصہ دیا گیا تھا۔

سابق وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو کے 1993 میں انتقال کے بعد مسلم لیگ (جونیجو) کی کمان حامد ناصر چٹھہ نےسنبھالی تھی۔ مسلم لیگ کا یہ دھڑا میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں موجود مسلم لیگ (ن) سے ہی الگ ہو کر وجود میں آیا تھا۔

مزید پڑھیے

08:08 31.3.2022

ایم کیو ایم نے اپوزیشن کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیوں کیا؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کی وفاق میں اہم اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے اس سے علیحدگی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے اور پارٹی کے دونوں وفاقی وزرا نے اپنے استعفے وزیرِ اعظم کو بھیج دیے ہیں جس کے بعد بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ عمران خان قومی اسمبلی میں اکثریت کھو چکے ہیں۔

وفاق میں ایک اور اتحادی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) پہلے ہی حکومت سے الگ ہونے کا اعلان کر چکی ہے۔ ایم کیو ایم کے، جس کی محض سات نشستیں ہیں، حکومتی اتحاد چھوڑنے سے جہاں سیاسی تلاطم پیدا ہوا ہے وہیں موجودہ حکومت کا چلنا اب بظاہر ممکن نظر نہیں آ رہا۔

ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے اپوزیشن کے ساتھ چلنے کا جو فیصلہ کیا ہے اس میں کوئی ذاتی یا جماعتی مفاد شامل نہیں ہے اور معاہدے کی تمام شقیں ملک کے ان علاقوں کے عوامی مسائل سے متعلق ہیں جو اب خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔

مزید پڑھیے

08:03 31.3.2022

وزیرِ اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

حزبِ اختلاف نے وزیرِ اعظم عمران خان سے عددی اکثریت کھو دینے کی بنیاد پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

19:42 30.3.2022

وزیرِ اعظم کی مبینہ دھمکی آمیز خط کے حوالے سے صحافیوں سے ملاقات

وزیرِ اعظم عمران خان نے مبینہ دھمکی آمیز خط کے حوالے سے صحافیوں سے ملاقات کی البتہ ملاقات میں خط نہیں دکھایا گیا۔

اس ملاقات میں موجود نجی ٹی وی چینل ’جیو نیوز‘ کے اینکر پرسن شہزاد اقبال کا کہنا تھا کہ ملاقات میں وزیرِ اعظم عمران خان نے بتایا کہ یہ خط ایک سرکاری راز ہے، اس لیے وہ اسے صحافیوں کے سامنے نہیں لا سکتے۔

شہزاد اقبال نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے صحافیوں کو آگاہ کیا کہ یہ خط وفاقی کابینہ کے ارکان کو دکھایا جا چکا ہے۔

شہزاد اقبال کے بقول عمران خان سے ملاقات میں صحافیوں کو خط کے اہم نکات بتائے گئے البتہ یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ خط کس ملک سے آیا ہے اور کن اعلیٰ حکام کی پاکستان کے عہدیداران سے بات چیت ہوئی۔

شہزاد اقبال نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے صحافیوں کو بتایا کہ اس خط میں جو بیان کیا گیا ہے وہ حرف بہ حرف نہیں بتایا جا سکتا، البتہ اس میں دیے جانے والے پیغام کی زبان دھمکی آمیز ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جس ملاقات کے حوالے سے یہ خط لکھا گیا ہے، وہ پاکستان کے حکام سے ایک باقاعدہ طے شدہ ملاقات تھی۔ اسی ملاقات کی روداد پاکستان بھیجی گئی ہے۔

خط کے حوالے سے شہزاد اقبال نے کہا کہ انہیں بتایا گیا کہ اس میں یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں کہ اگر وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہو گئی تو وہ (ملک) خوش نہیں ہو گا اور اگر تحریک کامیاب ہو جاتی ہے تو پاکستان کے لیے سب کچھ معاف کر دیا جائے گا۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG