پنجاب اسمبلی میں سیکیورٹی اہلکاروں کی آمد پر اپوزیشن کی تنقید
پنجاب اسمبلی کی رکن اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما عظمیٰ بخاری نے الزام عائد کیا ہے کہ ''اس وقت پنجاب اسمبلی کو پولیس اسٹیٹ بنا دیا گیا ہے''۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں 'یومِ نجات' کا 'ہیش ٹیگ' استعمال کیا ہے اور ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں نظر آ رہا ہے کہ سیکیورٹی اہلکار ایوان میں موجود ہیں۔
پنجاب اسمبلی میں آج نئے قائدِ ایوان کے لیے ووٹنگ ہونی ہے۔ وزارتِ اعلیٰ کے لیے مسلم لیگ (ق) کے رہنما پرویز الٰہی اور مسلم لیگ (ن) کے حمزہ شہباز مدِ مقابل ہیں۔ حمزہ شہباز کو حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے ساتھ ساتھ حکومت کے منحرف ارکان کی حمایت حاصل ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے جب کہ پرویز الٰہی کو حکومتی جماعت تحریکِ انصاف کی حمایت حاصل ہے۔
اپوزیشن کی قومی اسمبلی میں 174 ارکان کی حمایت کا دعویٰ
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم اورنگزیب کا دعویٰ ہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کو تحریکِ عدم اعتماد پر 174 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک چارٹ شیئر کیا ہے جس میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اسمبلی کی تعداد ظاہر کی گئی ہے۔
اس چارٹ میں دکھایا گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے 84 ارکان، پیپلز پارٹی کے 56، متحدہ مجلس عمل کے 14، عوامی نیشنل پارٹی کے ایک، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے چار، متحدہ قومی موومنٹ کے چھ، بلوچستان عوامی پارٹی کے چار، جمہوری وطن پارٹی کے ایک اور چار آزاد ارکان تحریکِ عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دیں گے۔
عمر سرفراز چیمہ کو نیا گورنر پنجاب مقرر کر دیا گیا
پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سازشی ٹولے کا مقابلہ کیا جائے گا: شاہ محمود قریشی
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ''پاکستان کے خلاف سازش ہو رہی ہے''۔ اور ''پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سازشی ٹولے کا مقابلہ کیا جائے گا''۔
پارلیمنٹ میں سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ''ان میں کوئی سیاسی مماثلت نہیں ہے''۔ بقول ان کے، ''نہ ہی ان کے نظریات ایک ہیں۔ کچھ بھی مشترکہ نہیں ہے۔ عمران خان، پی ٹی آئی اور جمہوری نظام کے خلاف سازش کی جا رہی ہے''۔
انہوں نے تحریکِ انصاف کے کارکنان کو ہدایت کی کہ ''قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا اور پاکستان کی خودمختاری کے لیے آواز بلند کرنی ہے''۔