رسائی کے لنکس

ایف آئی اے نے اعظم سواتی کی 'ذاتی ویڈیو' جعلی قرار دے دی


پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے سینیٹر اعظم سواتی نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی اہلیہ کو گزشتہ شب ایک نامعلوم نمبر سے ان کی اور ان کی اہلیہ کی ذاتی ویڈیو بھیجی گئی ہے۔ جو اس وقت بنائی گئی تھی جب وہ اگست میں سپریم کورٹ لاجز کوئٹہ میں مقیم تھے۔

دوسری جانب وفاقی تفتیشی ادارے (ایف آئی اے) نے اعظم سواتی کی 'ذاتی ویڈیو' جعلی قرار دیتے ہوئے اُنہیں سائبر کرائم ایکٹ کے تحت درخواست دینے کا مشورہ دیا ہے۔

لاہور میں ہفتے کو پریس کانفرنس کے دوران اعظم سواتی نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک نامعلوم نمبر سے اُن کی اور اہلیہ کی ذاتی ویڈیو بھیجی گئی ہے جس پر اُن کا پورا خاندان شدید کرب سے گزر رہا ہے۔

انہوں نے گزشتہ شب پیش آئے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ''کل رات نو بجے ان کو اہلیہ نے کال کی، ان کی چیخ و پکار و ہچکیاں بند نہیں ہو رہی تھیں۔ میں سمجھا شاید میری پوتیوں کو کسی نے قتل کردیا ہے۔ میں نے بار بار اہلیہ سے پوچھا کہ کیا بات ہے، مگر اس کی آواز نہیں نکل رہی تھی وہ صرف چیخ و پکار کر رہی تھی۔''

اعظم سواتی نے بتایا کہ انہوں نے امریکہ سے آئی ہوئی اپنی بیٹی کو کال کی اور کہا کہ اپنی والدہ سے پوچھو کہ کیا ہوا ہے؟ اس کے بعد بیٹی نے بتایا کہ والدہ کو کسی نامعلوم نمبر سے ایک ویڈیو بھیجی گئی ہے۔ جس میں آپ ہیں۔

اعظم سواتی کے مطابق انہوں نے بیٹی کو کہا کہ'' چند دن قبل 13 اکتوبر کو جب مجھے اٹھا کر لے گئے تھے، اس وقت میری ویڈیو بنائی گئی تھی۔ اور آج کل ویڈیوز میں رد و بدل کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ جس پر میری بیٹی نے کہا کہ ابو یہ آپ کی اور امی کی ویڈیو ہے۔''

پریس کانفرنس کے دوران اعظم سواتی یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا ''بیٹی نے بتایا کہ ابوجب آپ کوئٹہ گئے تھے، یہ تب کی ویڈیو ہے۔''

واضح رہے کہ ایف آئی اے نے 13 اکتوبر کو اعظم سواتی کو دارالحکومت اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا تھا۔

اعظم سواتی کے خلاف سائبر کرائم کے متنازع قانون کے تحت درج کردہ شکایت میں مسلح افواج اوران کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ کے خلاف "انتہائی نفرت انگیز اوردھمکی آمیز پیغام ٹوئٹ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

اعظم سواتی نے یہ ٹوئٹ وزیراعظم شہبازشریف اوران کے صاحبزادے حمزہ شہباز کی منی لانڈرنگ کیس میں بریت کے عدالتی فیصلے کے بعد کی تھی۔ بعد ازاں عدالت نے اعظم سواتی کی ضمانت منظور کرلی تھی۔

اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد ان کی بیوی، بہو اور تین پوتیاں ملک چھوڑ کر چلی گئی ہیں۔

اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ کیا آپ آج بھی نہیں پوچھ سکتے کہ میری فیملی کو ملک چھوڑنے پر کیوں مجبور کیا گیا؟ میری بہو، پوتیوں کا کیا قصور تھا؟ اس ملک کو ہم کس ڈگر پر لے کر چل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے یہ کیا، اس وقت زمین پھٹ کیوں نہیں گئی، یہ سب سپریم کورٹ کے جوڈیشل لاجز کوئٹہ میں کیا گیا۔ آپ میاں اور بیوی کی ویڈیوز بنا رہے ہیں۔

انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا اور میرا رشتہ کتنا قریبی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ آپ کے ایک قریبی کا میرے پورے خاندان سے کتنا قریبی تعلق ہے۔ میں خود آپ کے اس 'بڑے' کا دوست ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے چند دن پہلے کہا تھا کہ ''باجوہ صاحب ایاز نام کا ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہے۔ آپ لوگوں کی، میجر جنرل فیصل اور بریگیڈیئر فہیم کی باتیں نہ سنیں۔''

انہوں نے کہا کہ وہ کون لوگ ہیں جو اس پر تلے ہوئے ہیں کہ پاکستان کا بچہ بچہ وردی سے نفرت کرے۔ جب عوام گریں گے اور نفرت پیدا ہوگی تو ملک کے دشمن کا سینہ چوڑا ہوگا۔

اعظم سواتی سے منسوب ویڈیو جعلی ہے: ایف آئی اے

ادھر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ایک بیان میں کہا کہ اعظم سواتی سے منسوب انٹرنیٹ پر زیرِ گردش ویڈیو کا فارنزک جائزہ لیا گیا جس میں یہ ویڈیو جعلی پائی گئی ہے۔

ایف آئی اے نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا کہ وائرل ویڈیو کا فریم ٹو فریم اور ویڈیو اور آڈیو کا فارنزک جائزہ لیا گیا۔ یہ فارنزک بین الاقوامی فارنزک جائزہ کے معیار کے مطابق تھا۔

ادارے کا کہنا تھا کہ ابتدائی فارنزک جائزے میں یہ سامنے آیا کہ یہ ویڈیو ایڈیٹڈ ہے اور اس میں چہروں کو بگاڑ کر مختلف ویڈیو کلپس کو ملایا گیا ہے۔ مزید یہ کہ تصاویروں میں چہروں کو فوٹوشاپ کی مدد سے تبدیل کیا گیا ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق بادی النظر میں یہ جعلی ویڈیو ہے، جسے ڈیپ فیک ٹولز کے ساتھ ایڈٹ کیا گیا تاکہ غلط فہمی پیدا کی جائے اور اعظم سواتی کو بدنام کیا جائے۔

اپنے بیان میں ایف آئی اے نے اعظم سواتی سے مذکورہ معاملے پر شکایت درج کرانے کی بھی درخواست کی ہے۔

اعظم سواتی کے الزامات: چیئرمین سینیٹ کا پارلیمانی کمیٹی بنانے کا اعلان

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اعظم سواتی کے الزامات پر پارلیمانی لیڈرز پر مشتمل کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔

ہفتے کو جاری ایک بیان میں چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ اعظم سواتی کی ویڈیو سے متعلق انکشاف افسوس ناک اور قابلِ مذمت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کمیٹی میں تمام جماعتوں کے رہنما شامل ہوں گے۔ جو اعظم سواتی کی ویڈیو بنانے اور لیک کرنے کا جائزہ لے کر رپورٹ مرتب کرے گی۔

'اعظم سواتی کی پریس کانفرنس کا علم ہوا، وزارتِ داخلہ کو تحقیق کی ہدایت کی ہے'

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اُنہیں اعظم سواتی کی پریس کانفرنس کا علم ہوا ہے۔

ہفتے کو لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے وزارتِ داخلہ کو احکامات جاری کیے ہیں کہ اس معاملے میں حقائق سامنے لائے جائیں۔

دوسری جانب اعظم سواتی کی پریس کانفرنس پر سابق وزیرِاعظم عمران خان نے اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ اعظم سواتی کی اہلیہ انتہائی نجی، تہجد گزار خاتون ہیں اور وہ اتنی تکلیف، اذیت پر ان سے معافی مانگنا چاہتے ہیں۔

عمران خان نےکہا کہ اعظم سواتی اور ان کی اہلیہ کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ تمام اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان اس معاملے پر فوراً از خود نوٹس لیں۔

ادھر پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اعظم سواتی کی پریس کانفرنس پر کہا کہ یہ کلپ چیئرمین سینیٹ اور تمام پارلیمان کے منہ پر طمانچہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کبھی سوچا نہیں تھا کہ ہمارے انٹیلی جنس والے اس حد تک گر جائیں گے۔

مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ میری ٹوئٹ کے بعد آئی ایس آئی کے ایک افسر نے اُن سے رابطہ کر کے کہا ہے کہ اُن کا اس ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اُن کے بقول اُنہوں نے آئی ایس آئی کے اس افسر سے کہا کہ آپ مجھے مطمئن کرنے کے بجائے اعظم سواتی کو مطمئن کریں۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ "میں نے آئی ایس آئی کے مذکورہ افسر کو بتایا کہ سینیٹ الیکشن کے دوران ہاؤس میں خفیہ کیمروں کی اُنہوں نے نشان دہی کی تھی، لہذٰا وہ جانتے ہیں کہ اس ملک میں یہ کام کیسے ہوتے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیرِ خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے عمران خان کی ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ عمران خان کی ری ٹوئٹ کریں گے لیکن آج وہ ان سے متفق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اعظم سواتی کی اہلیہ کی ویڈیو ناقابلِ یقین ہے۔ مجھے شرم آتی ہے کہ میرے ملک میں ایک عزت دار خاتون کی اتنی تذلیل ہوسکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG