رسائی کے لنکس

افغان پالیسی کا اعلان جلد متوقع، کئی آپشن زیر غور


افغان پولیس اہل کار کابل کی امریکن یونیورسٹی پر دہشت گرد حملے بعد راکٹ لانچر کے ساتھ۔ 24 اگست 2016

امریکی حکام اس پہلو پر بھی غور کر رہے ہیں افغانستان سے فوج نکالنے کے بعد سیکیورٹی کی صورت حال میں مدد کے لیے وہاں پرائیویٹ فوجی کنٹریکٹر بھیج دیے جائیں۔

امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے جمعرات کے روز کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ افغان جنگ کے خاتمے سے متعلق حکمت علمی کا فیصلہ کرنے کے نزدیک پہنچ چکی ہے ، جو امریکی تاریخ کا طویل ترین تنازع ہے۔

وزیر دفاع نے واشنگٹن میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم فیصلے کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں اور میرا خیال ہے کہ بہت جلد اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔

وہائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ 16 سالہ جنگ سے متعلق نئی حکمت علمی پر صلاح مشورے کے لیے صدر ٹرمپ جمعے کے روز اپنی قومی سیکیورٹی ٹیم کے ساتھ نائب صدر مائک پینس سے ملاقات کریں گے ۔

اس وقت جن آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے وہ جنگ زدہ ملک افغانستان میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا یا اپنے تمام فوجیوں کو وہاں سے نکلنا شامل ہیں۔

امریکہ اور نیٹو ممالک کی جانب سے بڑے پیمانے پر فوجی مدد کے 16 سال بعد بھی افغان فوج ابھی تک طالبان پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے، جنہوں نے حالیہ عرصے میں افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

امریکی جنرل اس صورت حال کو جوں کی توں اور پریشان کن قرار دیتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے میٹس کو أفغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد کا اختیار دیا تھا لیکن کئی مہینے گذر جانے کے باوجود صور ت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکی ہے۔

اس وقت أفغانستان میں 8400 امریکی اور تقریباً 5000 نیٹو فوجی موجود ہیں، جو بنیادی طور پر مشاورت اور تربیت کے فرائض سرا نجام دے رہے ہیں۔

ایک امریکی تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن کے جنوبی ایشیا أمور کے ایک ماہر جونا بلینک کا کہنا ہے کہ جو رپورٹس ان کی نظر سے گذری ہیں ان کے مطابق فوجیوں کی تعداد میں تین سے پانچ ہزار کا اضافہ متوقع ہے۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فوجیوں کے اضافے سے جنگ کی صورت حال میں مجموعی طور پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

وہائٹ ہاؤس کے ایک سینیر مشاورت کار سٹیو بنن، جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کو مشورہ دینے والی ٹیم میں شامل ہیں، أفغانستان سے امریکی فوجیوں کی مکمل انخلا اور اس کے بدلے میں پرائیویٹ ملیشیا بھیجنے کے حق میں ہیں۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بلیک واٹر سیکیورٹی کمپنی کے بانی ایرک پرنس اور ڈین کروپس کے مالک سٹیفن فین برگ نے بھی وہائٹ ہاؤس کو اپنی تجاویز دیں ہیں۔

لیکن بااثر افغانوں کی بڑی تعداد، اپنے ملک اور عراق میں بلیک واٹر کے تلخ تجربات کے پیش نظر پرائیویٹ ملیشیا کی مخالفت کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG