رسائی کے لنکس

logo-print

جج جیمز پوہل نے بدھ کے روز اپنے حکم نامے میں کہا کہ ایسی معلومات کو عام کرنے سے امریکی قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے

گیارہ ستمبر کے دہشت گرد حملوں کےمشتبہ پانچ ملزمان کے خلاف مقدمے کا آغاز اگلے ماہ ہوگا۔ سماعت کرنے والے ججوں کے پینل کے سربراہ اور امریکی فوج کے جج نے حکم جاری کیا ہے کہ ملزموں کے پکڑے جانے، قید اور مبینہ اذیت سے متعلق شواہد صیغہ ٴراز میں رکھے جائیں۔

جج جیمز پوہل نے بدھ کے روز اپنے حکم نامے میں کہا کہ ایسی معلومات کو عام کرنے سے امریکی قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

پوہل نےمقدمے کے بارے میں 40سیکنڈ کے اصول کے حق میں بھی فیصلہ دیا کہ صحافی اورمقدمے کی کارروائی دیکھنے والے 40سیکنڈ کے وقفے سے سماعت سن سکیں گے، اور اِس طرح سے حکام کو کسی قابلِ اعتراض اطلاع کو خارج کرنے کا وقت مل سکتا ہے۔

صحافیوں اور حقوقِ انسانی کے گروپوں کی طرف سے کھلے عام مقدمے کے حق کی حمایت کی گئی ہے۔ اُنھوں نے فوج پر الزام لگایا کہ وہ مدعا علیہان کے خیالات کو سینسر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مشتبہ پانچ ملزمان جن میں گیارہ ستمبر کا سرغنہ خالد شیخ محمد بھی شامل ہے، اُن کا اگلے سال کیوبا کے گوانتانامو بے کے امریکی بحریہ کے اڈے پر مقدمہ چلنے والا ہے۔

امریکی انٹیلی جنس حکام نے اِس بات کو تسلیم کیا کہ مشتبہ دہشت گردوں کوخفیہ قیدخانوں کی طرف منتقل کیا گیا ہے اور اُنھیں ’واٹر بورڈنگ‘ کے تفتیشی مرحلے سے گزارا گیا ہے جو کہ اذیت کا وہ طریقہ ہے جس میں ڈوبنے کا احساس ہوتا ہے۔
XS
SM
MD
LG