رسائی کے لنکس

بھارت میں اقلیتوں کے خلاف حملوں میں اضافہ


بھارت میں گرجاگھروں پر انتہاپسند ہندؤں کےحملوں کے خلاف مسیحیوں کا مظاہرہ۔ فائل فوٹو

یو نائیٹڈ کرسچن فورم کے ترجمان جان دیال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے یوگی کے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد عیسائیوں اور مسلمانوں کے خلاف اس طرح کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

بھارت میں مسلمان اور عیسائی راہنماؤں نے ہندو اکثریتی ملک میں ان کے آبادیوں کے خلاف فرقہ وارانہ حملوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اقلیتی راہنماؤں کا کہنا ہے کہ نفرت پر مبنی حملوں میں ، جس کا الزام وہ دائیں بازو کے ہندو گروپس کو دیتے ہیں، ہندو قوم پر ست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں نمایاں کامیابی کے بعد اضافہ ہوا ہے۔

حملوں کے زیادہ تر واقعات ان ریاستوں میں پیش آ رہے ہیں جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے۔ اقلیتی راہنماؤں کا کہنا ہے کہ مقامی حکومتیں ان حملوں کے مرتکب افراد کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کر رہیں۔

ایک ایسا ہی حملہ اس مہینے کے شروع میں ریاست اتر پردیش میں پیش آیا جس میں ہندو سرگرم کارکن مہارج جنگ کے ایک گرجا گھر میں گھس گئے اور وہاں عبادت کے لیے موجود تقریباً 150 افراد پر ہندو مذہب اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ جس کے بعد وہ پاردی کو قتل کرنے اور گرجا گھر گرانے کی دھمکی دے کر چلے گئے۔

یو نائیٹڈ کرسچن فورم کے ترجمان جان دیال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے یوگی کے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد عیسائیوں اور مسلمانوں کے خلاف اس طرح کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

نئی دہلی کی مسلم کمیونٹی کے ایک لیڈر ظفر الإسلام کا کہنا ہے کہ ملک میں بی جے پی کی گرفت مضبوط ہونے سے دائیں بازو کے ہندو گروپس کی جانب اقلیتوں کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

تاہم ہندو گروپ ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی کے آبائی شہر گورکھ پور کے ہندو گروپ ایچ وائی وی کے سربراہ راجیش رائے کہتے ہیں کہ اقلیتوں کی جانب سے انہیں زبردستی ہندو مت قبول کرنے کے الزامات بے بنیاد اور جھوٹے ہیں اور انہیں میڈیا کا ایک حصہ ہوا دے رہا ہے۔ لیکن یہ درست نہیں ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG