رسائی کے لنکس

امریکہ کی انڈونیشی فوج کے سربراہ سے معذرت


انڈونیشی فوج کے کمانڈر جنرل گاٹوٹ نرمانتیو، فائل فوٹو

جنرل نرمانٹیو کو امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل جوزف ڈنفرڈ کی جانب سے، انتہا پسند تنظیموں کے بارے میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔

انڈونیشیا کی فوج کے سر براہ نے امریکہ سفر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اگرچہ انہیں سفر سے روکنے کا ابتدائی مسئلہ حل ہو گیا تھا ۔ انڈونیشیا کی مسلح ا فواج کے کمانڈر جنرل گاٹوٹ نرمانتیو ہفتے کے روز اپنی اہلیہ کے ساتھ امریکہ ایک طیارے پر سوار ہونے کے لیے تیار تھے جب انہیں ایئر لائن کے عملے نے مطلع کیا کہ امریکی کسٹمز اور سرحدی تحفظ کے تحت ان کے داخلے کی ممانعت ہے ۔ انڈو نیشیا کے لیے امریکہ کی نائب سفیر ایرین مک کی نے پیر کے روز انڈونیشیا کے ٹی وی پر اس واقعے پر معذرت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس واقعے کی وجہ سے پیش آنے والی زحمت پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور ہم معذرت خواہ ہیں اور میں نے آج صبح ایک بار پھر انڈونیشیا کی وزیر خارجہ مارسوڈی ریٹنو سے معذرت کی ہے۔

کمانڈر کے معاملے کو تیزی سے حل کر دیا گیا تھا اور ایک دوسری فلائٹ پر نشستیں دے دی گئی تھیں۔ لیکن پیر کے روز انڈونیشیا کی مسلح ا فواج کے ترجمان میجر جنرل ویو یانٹو نے کہا کہ اس واقعے کے نتیجے میں جنرل کو دوسرے منصوبے بنانے پڑے ۔

ان کا کہنا تھا کہ کمانڈر اور ان کے عملے نے امریکہ کی جانب سے کوئی سرکاری وضاحت نامہ وصول ہونے تک امریکی مسلح ا فواج کے کمانڈر کی جانب سے بھیجے گئے دعوت نامے پر شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جنرل نرمانٹیوکو امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل جوزف ڈنفرڈ کی جانب سے، انتہا پسند تنظیموں کے بارے میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔

امریکہ اور انڈونیشیا کے درمیان تعلقات عمومی طور پر دوستانہ ہیں ۔ انڈونیشیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اس واقعے پر جکارتا کے رد عمل کا انحصار واشنگٹن کی وضاحت پر ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG