رسائی کے لنکس

logo-print

انڈونیشیا: منشیات اسمگلنگ کے مجرموں کی سزائے موت پر عملدرآمد کی تیاری


فلپائن سے تعلق رکھنے والی ایک ملازمہ میری جین ولوسو جسے 2010 میں منشیات سمگل کرنے کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی، کو متوقع سزا سے پہلے جمعے کو جیل سے منتقل کر دیا گیا تھا۔

انڈونیشیا نے دارالحکومت میں موجود غیر ملکی سفارتخانوں سے کہا ہے کہ وہ بروز ہفتہ سزائے موت پانے والے اپنے شہریوں کو ملنے کے لیے نوساکمبنگن جزیرے پر قائم سخت سیکورٹی والی جیل میں اپنے نمائندے بھیجیں۔

یہ معلوم نہیں کہ ان نو غیر ملکی اور ایک انڈونیشیائی قیدیوں کو کب گولی مار کر سزا موت دی جائے گی۔ قانون کے مطابق ابھی جکارتہ نے ان کی سزا پر عملدرآمد سے 72 گھنٹے پہلے کا نوٹس جاری نہیں کیا ہے۔

ایک غیر ملکی سفارتخانے کی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’’یہ سچ ہے۔ ہمیں کہا گیا ہے کہ ہم ہفتے کو وہاں پہنچیں۔ ہمیں یہ علم نہیں کہ سزا پر عملدرآمد کس تاریخ کو کیا جائے گا، مگر توقع ہے کہ ایسا چند دن میں کر دیا جائے گا۔‘‘

دریں اثنا، فلپائن سے تعلق رکھنے والی ایک ملازمہ میری جین ولوسو جسے 2010 میں منشیات اسمگل کرنے کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی، کو متوقع سزا سے پہلے جمعے کو اپنی جیل سے منتقل کر دیا گیا تھا۔

میری جین ولوسو منشیات اسمگل کرنے والے ان دس افراد میں شامل ہیں جن کی سزائے موت پر عملدرآمد پچھلے ماہ آخری وقت میں کی گئی اپیلوں کے باعث مؤخر کر دیا گیا تھا۔ ولوسو کے علاوہ تین مجرموں کا تعلق نائیجیریا، دو کا آسٹریلیا، اور ایک، ایک کا تعلق فرانس، برازیل، انڈونیشیا اور گھانا سے ہے۔

اس معاملے کی وجہ سے انڈونیشیا کے ان حکومتوں سے تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG