رسائی کے لنکس

لیبیا کے ساحل پر 74 تارکین وطن ڈوب گئے


ساحلی محافظ بحیرہ روم میں ڈوب جانے والے تارکین وطن کی نعشیں نکال رہے ہیں۔ فائل فوٹو
ساحلی محافظ بحیرہ روم میں ڈوب جانے والے تارکین وطن کی نعشیں نکال رہے ہیں۔ فائل فوٹو

گذشتہ سال بحیرہ روم کے راستے لیبیا سے اٹلی اسمگل کیے جانے والے 4579 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس سے ایک سال پہلے کی تعداد 2869 کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

لیبیا کی ریڈ کریسنٹ نے کہا ہے کہ ملک کے شمالی ساحلی علاقے سے کم ازکم 74 افریقی تارکین وطن کی نعشیں ملی ہیں۔

ریڈ کریسنٹ کے ترجمان محمد المصراتی کا کہنا ہے کہ پیر کے روز بحیرہ روم کے ساحلی قصبے زاویہ کے قریب ربڑ کی ایک شکستہ کشتی ملی۔

انہوں نے بتایا کہ اس طرح کی کشتیاں عموماً 120 مسافرو ں کے لیے استعمال ہوتی ہیں، اس لیے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو جانے والوں کی مزید نعشیں مل سکتی ہیں۔

المصراتی کا کہنا تھا کہ تارکین وطن کی نعشوں کو دارالحکومت طرابلس میں واقع ایک مرکز میں پہنچا دیا گیا ہے جو ناقابل شناخت لوگوں کے لیے بنایا گیا ہے۔

لیبیا کے ساحلی محافظوں نے کہا ہے کہ جمعے اور ہفتے کے روز زاویہ کے ساحلی علاقے میں 500 سے زیادہ تارکین وطن کو ڈوبنے سے بچایا لیا گیا۔

حالیہ مہینوں میں انسانی اسمگلنگ کی اس اہم گذرگاہ میں تارکین وطن کی ہلاکتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

یورپی سرحد اور ساحلی تحفظ سے متعلق ایک ادارے کے ڈائریکٹر فیبریس لیگری نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ گذشتہ سال بحیرہ روم کے راستے لیبیا سے اٹلی اسمگل کیے جانے والے 4579 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس سے ایک سال پہلے کی تعداد 2869 کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

لیبیا کی حریف حکومتیں اور وہاں کے بہت سے نیم فوجی گروپس انسانی اسمگلنگ سے دولت کما رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کو تشدد کا نشانہ بنانے اور ان سے جبری مشقت لینے کے شواہد بھی موجود ہیں۔

سن 2011 میں خانہ جنگی کے دوران لیبیا کے ڈکٹیٹر معمر قذافی کے قتل کے بعد سے اس ملک میں بڑے پیمانے پر لاقانونیت کا راج رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG