رسائی کے لنکس

logo-print

موصل کی لڑائی میں سینیر ایرانی عسکری کمانڈر ہلاک


سپاہ پاسدران انقلاب اسلامی ۔ فائل فوٹو

ایک ایرانی ویب سائٹ مشرق کے مطابق نصیری نے 1980 اور 1988 کے دوران ایران کی جنگوں میں حصہ لیا تھا اور وہ گذشتہ 6 سال سے شام کی خانہ جنگی میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں لڑ رہا تھا۔

ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا ایک سینیر کمانڈر مغربی عراقی شہر موصل میں ہلاک ہو گیا ۔

ایران کے ایک خبررساں ادارے تسنیم نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ کمانڈر شعبان نصیری موصل کے مغربی علاقے کو عسکریت پسندوں سے آزاد کرانے کے لیے جاری لڑائی میں ہلاک ہوا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ایران نے موصل کا قبضہ اسلامی عسکریت پسندوں سے واپس لینے کے لیے جاری لڑائیوں میں اپنے ایک سینیر کمانڈر کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔

داعش کو عراق کے اس اہم شہر سے باہر دھکیلنے کی جنگ اکتوبر میں شروع ہوئی تھی اور موصل کے کئی علاقوں پر جنگجو ابھی تک قابض ہیں۔

کمانڈر نصیری موصل کے مضافاتی علاقے باج میں ہونے والی جھڑپوں میں ہلاک ہوا۔ شام کی سرحد کے قریب واقع یہ وہ اہم شہر ہے جس کے کئی حصے ابھی تک انتہاپسندوں کے کنٹرول میں ہیں۔

عراقی اور امریکی عہدے داروں کا خیال ہے کہ داعش کا کمانڈر ابوبکر البغدادی بھی اسی علاقے میں چھپا ہوا ہے۔

ایک ایرانی ویب سائٹ مشرق کے مطابق نصیری نے 1980 اور 1988 کے دوران ایران کی جنگوں میں حصہ لیا تھا اور وہ گذشتہ 6 سال سے شام کی خانہ جنگی میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں لڑ رہا تھا۔

اپریل میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ایک جنرل کو عراق میں ایران کا سفیر تعینات کیا گیا تھا ، جو اس جانب اشارہ ہے کہ اس ہمسایہ ملک کی جنگ میں ایران کا کلیدی کردار ہے۔

ایران سن 2012 سے شام کے صدر اسد کو فوجی امداد فراہم کررہا ہےلیکن اس کا اظہار عوامی سطح پر نہیں کیا جاتا۔ جیسے جیسے مشرق وسطی میں ایران کی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اس کے جنگجوؤں کی ہلاکتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔

پچھلے سال ایک ایرانی عہدے دار نے بتایا تھا کہ شام کی خانہ جنگی میں ایک ہزار سے زیادہ ایرانی جنگجو مارے جا چکے ہیں۔ایرانی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق ان میں ایک بڑی تعداد سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے فوجیوں اور سینیر کمانڈروں کی بھی ہے۔

ایران نے شام کی جنگ میں حصہ لینے کے لیے عراق، افغانستان اور پاکستان کے ہزاروں شیعہ مسلمانوں کو جنگی تربیت دے کر منظم کیا ہے۔

ایران سے قریبی تعلق رکھنے والا لبنان کا شیعہ عسکری گروپ حزب اللہ بھی اس جنگ میں صدر اسد کا ساتھ دے رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG