رسائی کے لنکس

موصل میں داعش کی مکمل شکست بہت قریب ہے


عراق کی خصوصی فورسز کے ارکان موصل میں داعش سے مقابلے کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔ 16 مئی 2017

امریکی فوج کے ترجمان جان ڈورین نے کہا کہ اس وقت موصل میں عسکریت پسند گروپ اسلامک اسٹیٹ مکمل طور پر محاصرے میں ہے اور مکمل شکست کے دھانے پر پہنچ چکا ہے۔

عراقی فوج نے کہا ہے کہ اس نے موصل میں داعش کے جنگجوؤں کو اپنے محاصرے میں لے لیا ہے اور اس انتہاپسند گروپ کے قبضے میں اب شہر کے مغرب کا صرف 10 فی صد علاقہ باقی رہ گیا ہے۔

عراق میں مشترکہ فوجی کارروائیوں کے ترجمان بریگیڈیر جنرل یحیی نے منگل کے روز بتایا کہ دہشت گردوں کو موصل سے نکالنے کے لیے 7 مہینے قبل امریکی سرپرستی میں شروع کی جانے والی فوجی مہم کے نتیجے میں اب عسکریت پسندوں کے کنٹرول میں پرانے شہر کا تقریباً 12 مربع کلومیٹر کا علاقہ رہ گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سب لوگوں کو ایک بار پھر یہ یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ اگر اللہ کی رضا شامل حال رہی تو ہم بہت کم وقت میں موصل کے مغربی حصے کو آزاد کروا کر عسکریت پسندوں سے پاک کر دیں گے۔ اور پرانے شہر پر عراقی پرچم لہرا دیں گے۔

امریکی فوج کے ترجمان جان ڈورین نے کہا کہ اس وقت موصل میں عسکریت پسند گروپ اسلامک اسٹیٹ مکمل طور پر محاصرے میں ہے اور مکمل شکست کے دھانے پر پہنچ چکا ہے۔

ترجمان ڈورین نے کہا کہ امریکی سرپرستی میں کیے جانے والے حملوں کے نتیجے میں 200 سے زیادہ ایسی غاریں اور ایک ہزار سے زیادہ ایسی فوجی چوکیوں پر قبضہ ہو گیا ہے جنہیں اسلامک اسٹیٹ گروپ استعمال کر رہا تھا۔

موصل میں جاری لڑائیوں کی وجہ سے 5 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوچکے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ڈھائی لاکھ افراد شہر میں پھنسے ہوئے ہیں جنہیں اسلامک اسٹیٹ گروپ نکلنے کی اجازت نہیں دے رہا۔

جیسے جیسے جہادیوں کے قبضے سے شہر کے حصے نکلتے جا رہے ہیں ، انہوں نے شہریوں کو انسانی ڈھال بنانا شروع کر دیا ہے اور وہ ان لوگوں کو ہلاک کررہے ہیں جو شہرسے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

داعش نے سن 2014 میں عراق اور شام کے بڑے علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد موصل کو اپنا دارالخلافہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت کے بعد سے ، داعش کے قبضے سے کافی علاقہ نکل چکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG