رسائی کے لنکس

میانمار: راخائین میں پرتشدد واقعات میں تقریباً چار سو افراد ہلاک


فائل فوٹو

میانمار کے فوجی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ راخائین کی ریاست میں گزشتہ ہفتے کے دوران ہونے والے تشدد کے واقعات میں تقریباً چار سو افراد ہلاک ہوگئےجن میں سے زیادہ تر روہنگیا 'باغی' بتائے جاتے ہیں۔

میانمار کی فوج نے اپنے فیس بک صفحے پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ان میں 370 باغی اور 29 پولیس اہلکار اور عام شہری ہیں۔

دوسری طرف روہنگیا مسلمان برادری نے کہا کہ ان کے دیہات پر ہونے والے حملوں میں متعدد افراد ہلاک ہوئے اور ہزاروں اپنی جان بچانے کے لیے وہا ں سے فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ کم ازکم 38 ہزار افراد میانمار سے فرار ہو کر بنگلادیش چلے گئے ہیں جن میں زیادہ ترکا تعلق روہنگیا برادری سے ہے۔ بنگلہ دیش میں اس برادری کے افرادنے وی او اے کو بتایا کہ کچھ ہندو بھی ان میں شامل ہیں جو بھاگ کر یہاں آئے ہیں۔ میانمارمیں ہندو برادری کے افراد بھی اقلیت میں ہیں۔

بنگلہ دیش میں ذرائع نے 'وی اے او' کی بنگلہ سروس کو بتایا ہے کہ گزشتہ آٹھ دنوں میں 60 ہزار افراد سرحد پار سے آئے ہیں۔

اس کے علاوہ ہزاروں افراد اپنے دیہات چھوڑ کر راخائین ریاست کے دیگر شہروں میں واقع مندروں، اسکولوں اور مساجد میں پناہ لینے پر مجبور ہو ئے۔

ایمرجنسی ریلیف کمیٹی کے ایک عہدیدار یوخن نے 'وی او اے ' کی برمی سروس کو فون پر بتایا کہ 800 افرادنے مونگ دا شہر کی دو بدھ خانقاہوں میں پناہ لی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ رضا کار نقل مکانی کرنے والے افرادکے لیے خوارک کا بندو بست کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

روہنگیاسالویشن آرمی کی طرف سے راخائین کی ریاست میں پولیس چوکیوں پر ہونے والوں حملوں کے بعد تشدد پھوٹ پڑا جہاں روہنگیا برادری کے زیادہ تر افراد آباد ہیں۔ پولیس نے باغیوں کو پکڑنے کے لیے جوابی کارروائی کے دوران دیہات پر جوابی حملے شروع کر دیے۔

میانمار میں روہنگیا برادری کو بنگلہ دیش سے آنے والے غیر قانونی تارکین وطن گردانا جاتا ہے اگرچہ ان میں اکثریت ایسے افراد کی ہے جو کئی نسلوں سے میانمار میں آباد ہیں اس کے باوجود انہیں شہریت نہیں دی جاتی ہے۔

گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے میانمار کی مغربی ریاست راخائین میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات اکثر رونما ہوتے رہتے ہیں اور گزشتہ سال اکتوبر میں بڑے پیمانے پر ہونے والے تشدد کے واقعات کے بعد ہونے والی پولیس کارروائیوں کی وجہ سے ہزاروں افراد بنگلہ دیش بھاگنے پر مجبو ر ہوئے۔

میانمار کی حکومت روہنگیا برادری کے خلاف تشدد روا رکھنے کے الزامات کو مسترد کرتی ہے اور راخائین ریاست میں صحافیوں اور باہر سے آنے والے دیگر افراد کی رسائی محدو د کردی ہے۔

تاہم اقوام متحدہ میں میانمار کے سفیر کا کہنا ہے کہ حکومت صورت حال کی بہتری اور تشدد کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ کے کمیشن کی طرف سے دی گئی تجاویز پر عمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG