رسائی کے لنکس

logo-print

پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ اپوزیشن کو دینا سیاسی ایڈجسٹمنٹ ہے: تجزیہ کار


وزیرِ اعظم عمران خان

قوانین پر عملدرآمد کیا گیا تو نیب  اور ایف آئی اے جیسے ادارے اپنا کام کرتے رہیں گے، پبلک اکاونٹس کمیٹی اپوزیشن کو دینے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

پاکستان میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ اپوزیشن کے حوالے کیا جانا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک سیاسی ایڈجسٹمنٹ کا نتیجہ ہے، اس عمل سے ملک میں جاری احتساب کے عمل میں کوئی فرق نہیں پڑے گا تاہم سیاسی ایڈجسمنٹ کی وجہ سے پارلیمنٹ کا ماحول بہتر ہوگا اور قانون سازی کا عمل شروع ہوسکے گا۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اکاونٹ ایبلٹی لیب اسلام آباد کے سربراہ فیاض یاسین کہتے ہیں کہ اس ایڈجسٹمنٹ کا مقصد ملک میں احتساب کے عمل کو تیز کرنا ہرگز نہیں۔

اسلام آباد میں واقع اکاونٹ ایبلٹی لیب کے سربراہ فیاض یاسین کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں حکمران جماعت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والی اس مفاہمت کا مقصد ملک میں احتساب کے عمل کو فروغ دینا نہیں بلکہ یہ خالص سیاسی ایڈجسٹمنٹ ہے۔ تحریک انصاف نے اپنے لئے ایک آسان راستہ تلاش کیا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ نون لیگ کو اگر وہ ایڈجسٹ کریں گے اور انھیں کسی اہم عہدے پر بیٹھائیں تو شائد خود ان کے لئے کوئی آسانی ہو۔

فیاض یاسین کا کہنا ہے کہ بلآخر ادارے اہم ہوتے ہیں اگر قوانین پر عملدرآمد کیا گیا تو نیب اور ایف آئی اے جیسے ادارے اپنا کام کرتے رہیں گے۔ ماضی میں جب نون لیگ کے دور حکومت میں پیپلز پارٹی کو پبلک اکاونٹ کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا تو پی اے سی کے ذریعہ ہونے والا احتساب بلکل معطل ہو کر رہ گیا تھا، دونوں نے ایک دوسرے کو مراعات دینا شروع کر دی تھیں، یاسین فیاض کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں شہباز شریف کے چیئرمین پبلک اکاونٹ کمیٹی مقرر ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، ان کے بقول ’’ایسا نہیں ہے کہ شہباز شریف کے بیٹھنے سے کوئی بہت زیادہ فرق پڑے گا کیونکہ یہاں حکومت پی ٹی آئی کی ہے نیب کا ادارہ متحرک ہے، ایف آئی اے متحرک ہے اور آڈٹ کا محکمہ حکومت کی براہ راست نگرانی میں ہو گا، تو شہباز شریف خود اپنے آپ کو کوئی استثنی دینا چاہیں گے بھی تو وہ اندرون خانہ نہیں ہوگا، میڈیا نوٹس لے گا، اس لئے یہ معاملات طشت ازبام ہوں گے۔ اگر سیاسی ایڈجسٹمنٹ کے لئے پی ٹی ائی نے یہ کام کیا ہے تو میرا نہیں خیال کہ اس سے کوئی فرق پڑے گا۔

پبلک اکاونٹس کمیٹی کی سربراہی پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق کا خیر مقدم کرتے ہوئے پاکستان انسٹیٹوٹ آف لیجسلیٹو ریفارم اینڈ ڈولپمنٹ (پیلڈاٹ ) کے چیئرمین احمد بلال محبوب نے کہا کہ پارلیمٹ کی کمیٹیاں حکومت کی جواب دہی اور قانون سازی کے لئے بہت اہم کام کرتی ہیں، پبلک اکاونٹس کمیٹی کے بعد پارلیمنٹ کی دیگر کمیٹیاں بھی بن جائیں گی اور حکومت کا احتسابی عمل بھی شروع ہو جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کا منڈیٹ حکومت کا احتساب کرنا ہے۔ دنیا بھر میں پبلک اکاونٹس کمیٹی کی سربراہی عموما اپوزیشن کے پاس ہی ہوتی ہے تاکہ حکومت کے افعال کی نگرانی ہوسکے، اس لئے پاکستان میں اگر یہ کام ہوا ہے تو یہ خوش آئند ہے۔ احمد بلال محبوب نے اس خیال سے اتفاق نہیں کیا کہ کمیٹی کی سربراہی اپوزیشن کو ملنے کے بعد باہمی مراعات دینے کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ بلال محموب کے مطابق ’’میرا نہیں خیال کہ ایسا ہوسکے گا۔ اس لئے کہ دونوں کے دائرہ کار بلکل مختلف ہیں، ماضی میں اگر دونوں پارٹیوں میں مفاہمت رہی تھی تو اس کی وجہ دیگر وجوہات تھیں، وہ نہیں سجھتے کہ اپوزیشن لیڈر کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کا چیئرمین بنائے جانے کے بعد نیب یا ایف ائی کی کاروائیاں رک سکیں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG