رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان اور امریکہ کا دفاع کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق


مشترکہ اعلامیے کے مطابق امریکہ نے قبائلی علاقوں بشمول شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی مسلح افواج کی جاری کارروائیوں کی حمایت کے عزم کو دہرایا۔

پاکستان اور امریکہ نے دفاع کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔

رواں ہفتے واشنگٹن میں پاکستان اور امریکہ کے دفاعی مشاورتی گروپ کا اجلاس ہوا، جس میں پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری دفاع لفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) محمد عالم خٹک جب کہ امریکی وفد کی سربراہی انڈر سیکرٹری برائے دفاع کرسٹین ورمتھ نے کی۔

دفاعی مشاورتی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان سلامتی کے شعبوں میں تعلقات میں بہتری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان اور امریکہ کا تعاون علاقائی امن و سلامتی اور استحکام کے لیے اہم ہے۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق امریکہ نے قبائلی علاقوں بشمول شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی مسلح افواج کی جاری کارروائیوں کی حمایت کے عزم کو دہرایا۔

پاکستان کی طرف سے افغان سرحد کے قریب اپنے علاقوں سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو تباہ کرنے کو بھی سراہا گیا۔

تجزیہ کار حسن عسکری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون افغانستان میں حصول امن کے حوالے سے اہم ہے۔

’’اب اُمید یہ ہی کی جاتی ہے کہ تعاون زیادہ ہو گا کیوں کہ امریکہ بھی (افغانستان میں امن کے عمل) میں شامل ہو گا۔‘‘

پاکستان اور امریکہ کے دفاعی مشاورتی گروپ کے اجلاس میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کے قیامسے متعلق صدر اوباما کی نئی پالیسی کے علاوہ وہاں کی سیاسی و سلامتی کی صورت حال پر بات چیت کی گئی۔

اس موقع پر افغانستان میں امن و مصالحت کے عمل کی حمایت کا اظہار کیا گیا۔

پاکستانی وفد نے افغانستان سے اپنے تعاون کے بارے میں امریکی عہدیداروں کو آگاہ کیا۔

امریکہ اور پاکستان نے سلامتی کے شعبے میں تعاون، خاص طور پر اتحادی اعانتی فنڈ اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کے لیے کی جانے والی کارروائیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی طرف سے کیے گئے اخراجات کی ادائیگی اتحادی اعانتی فنڈ کے ذریعے کی جاتی ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں حالیہ مہینوں میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ رواں سال اکتوبر میں وزیراعظم نواز شریف نے امریکہ کا سرکاری دورہ کیا تھا جہاں اُن کی صدر براک اوباما سے بھی ملاقات ہوئی۔

اس کے بعد پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بھی امریکہ کا دورہ کیا جہاں اُنھوں امریکہ کی عسکری قیادت سے ملاقاتوں کے علاوہ صدر اوباما کی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔

XS
SM
MD
LG