رسائی کے لنکس

امریکہ سے تعلقات پر مشاورتی عمل جاری: نفیس ذکریا


نفیس ذکریا (فائل)
نفیس ذکریا (فائل)

جمعرات کو معمول کہ ہفتہ وار نیوزبریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے اگرچہ ان ملکوں کے نام نہیں بتائے جن کا دورہ وزیر خارجہ خواجہ آصف کریں گے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہےکہ وزیر خارجہ خواجہ آصف خطے کے دوست ملکوں کا دورے کرنا کا پروگرام وضح کر رہے جس میں وہ افغانستان اور خطے کی صورت حال کے بارے میں پاکستان کا نقطہ نظر بیان کریں گے۔

جمعرات کو معمول کہ ہفتہ وار نیوزبریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے اگرچہ ان ملکوں کے نام نہیں بتائے جن کا دورہ وزیر خارجہ خواجہ آصف کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ " میرے خیال میں جب ہم خطے کی یا دوست ملکوں کی بات کرتے ہیں تو یہ دورے انہیں ملکوں کے ہوں گے جن سے ہمارے دوستانہ تعلقات ہیں۔"

تاہم انہوں نے کہا کہ وہ واضح طور پر ان ملکوں کے نام نہیں بتا سکتے۔

پاک امریکہ تعلقات کی بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کےدیرینہ تعلقات ہیں اور دونوں ملکوں کے مابین اداروں کی سطح پر رابطوں کا ایک طریقہ کار پہلے سے موجود ہے اور ان کے بقول دونوں ملک اس دائرہ کار میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ مختلف امور پر بات چیت کرتے ہیں اور یقینی طور پر انہیں جاری رکھیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ سے تعلقات سے متعلق اعلیٰ سطحی مشاورتی عمل بھی جاری ہے۔

صدر ٹرمپ کی طرف سے افغانستان اور خطے سے متعلق امریکی انتظامیہ کی پالیسی کے اعلان کے بعد امریکہ اور پاکستان کے سفارتی تعلقات میں تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ پاکستان میں دہشت گردوں تنظیموں کی محفوظ ٹھکانوں پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا ہے۔

اسلام آباد کا موقف ہے کہ وہ ہر طرح کے دہشت گردوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے اور پاکستان میں ایسے محفوظ ٹھکانے موجود نہیں جو افغانستان میں کارروائیوں کے لیے استعمال ہورہے ہوں۔

واضح رہے کہ پاکستان کی پارلیمان کےدونوں ایوانوں نےامریکہ کی جنوبی ایشیا سے متعلق نئی پالیسی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پاکستان پر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کی موجودگی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے متفقہ قراردایں منظور کیں۔

پاکستان اور امریکہ کے ایک دوسرے کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں۔ ماضی میں بھی بعض معاملات خاص طور پر افغانستان سے متعلق دونوں کا موقف ایک دوسرے سے مختلف رہا ہے اور مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے مشترکہ مفادات کے لیے ضروری ہے کہ دنوں ملک اپنے باہمی معاملات کو بات چیت سے حل کریں۔

XS
SM
MD
LG