رسائی کے لنکس

'دہشت گردوں کے فنڈز کا حصول روکنے کے لیے ٹھوس اقدام ضروری'


فائل فوٹو

پاکستان نے دہشت گردوں اور ان کے معاونین کے خلاف بھرپور کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں اور حالیہ برسوں میں عسکریت پسندوں کے نیٹ ورک ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے مالی وسائل کے حصول کی راہ کو بھی مسدود کرنے کا بتایا جاتا رہا ہے۔

لیکن ایسی خبریں بھی آئے روز سامنے آتی رہتی ہیں جن میں کالعدم تنظیمیں بظاہر فلاحی کاموں کے لیے لوگوں سے نہ صرف کھلے عام چندہ جمع کر رہی ہوتی ہیں بلکہ نام تبدیل کر کے اپنی سرگرمیوں کو کسی نہ کسی طور جاری رکھے ہوئے ہوتی ہیں۔

آئندہ ماہ اسپین میں ایک بین الاقوامی تنظیم 'فائننشل ایکشن ٹاسک فورس' کا اجلاس ہونے جا رہا ہے جس میں دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے میں عدم تعاون کے خطرات کا تازہ جائزہ پیش کیا جائے گا۔

پاکستان کو 2015ء میں دہشت گردوں کے مالی وسائل مسدود کرنے کی کوششوں کی بنا پر اس تنظیم نے اپنی نگرانی کی فہرست سے منہا کر دیا تھا۔

لیکن مبصرین یہ کہتے آ رہے ہیں کہ نام بدل کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے والے عناصر اور تنظیموں کے خلاف ٹھوس کارروائی ضروری ہے بصورت دیگر اب تک حاصل ہونے والی کامیابیاں دیرپا ثابت نہیں ہو سکیں گے۔

انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے 'نیکٹا' کے سربراہ احسان غنی نے حال ہی میں امریکی خبر رساں ایجنسی "ایسوسی ایٹڈ پریس" سے بات کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اس ضمن میں موجودہ نظام اتنا موثر نہیں اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

سلامتی کے امور کے ماہر اور سابق وفاقی سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی نے ہفتہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دہشت گرد فنڈ کے حصول یا ترسیل کے لیے روایتی ذرائع تو استعمال نہیں کرتے اس لیے موجودہ قوانین اور تفتیش کے طریقہ کار میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔

انھوں نے بھی اس تاثر سے اتفاق کیا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف ٹھوس کارروائی کے لیے سیاسی عزم اتنا پختہ نہیں جتنا کہ ہونا چاہیے۔

تاہم موجودہ حکومت میں شامل عہدیداران اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ملک میں دہشت گردی و انتہا پسندی کے مکمل خاتمے کے لیے ہر قسم کے عسکریت پسند اور ان کے معاونین کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG