رسائی کے لنکس

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق ان ارکان کو 30ستمبر تک قانون کے مطابق اپنے اثاثہ جات کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو جمع کروانا تھی، لیکن یہ ارکان اس میں ناکام رہے جس پر ان ارکان کی رکنیت معطل کردی گئی ہے۔

کمیشن کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق سینیٹ کے 7 جبکہ قومی اسمبلی کے 50 ارکان کی رکنیت معطل کی گئی ہے۔ پنجاب اسمبلی کے 84، سندھ اسمبلی کے 50 اور خیبرپختونخواہ اسمبلی کے 38 ارکان کی رکنیت معطل کی گئی ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے 11 ارکان کی رکنیت معطل ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے معطل کیے گئے ارکان میں وفاقی وزرا بھی شامل ہیں جن میں وزیر مذہبی امورسردار یوسف، طارق فضل چوہدری، طلال چوہدری، عابد شیرعلی اور محسن شاہ نواز رانجھا شامل ہیں، جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اور مائزہ حمید بھی معطل ارکان میں شامل ہیں۔

دیگر جماعتوں کے ارکان میں عائشہ گلالئی، شہریار آفریدی، اویس لغاری، فہمیدہ مرزا، عارف علوی اور رشید گوڈیل کی قومی اسمبلی کی رکنیت بھی معطل کردی گئی ہے۔ اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرانے پر پنجاب اسمبلی کی ارکان حنا پرویز بٹ اور ظل ہما معطل ہو گئی ہیں۔ سندھ اسمبلی کے معطل ہونے والے ارکان میں ارباب غلام رحیم، رؤف صدیقی، فیصل سبزواری، امداد پتافی، حسنین مرزا اور مخدوم خلیل الزماں شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن نے شوکت یوسفزئی، امجد آفریدی اور نگہت اورکزئی کی خیبرپختونخواہ اسمبلی کی رکنیت بھی معطل کردی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے سینیٹ،قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو 30 ستمبر تک اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

جن ارکان کی رکنیت معطل ہوئی ہے وہ ایوان میں ہونے والی کسی کارروائی کا حصہ نہیں بن سکتے اور نہ ہی اپنے ووٹ کا حق استعمال کرسکتے ہیں۔ تاہم یہ ارکان جیسے ہی الیکشن کمیشن میں اپنے مالی اثاثوں کی تفصیلات جمع کروائیں گے ان کی معطلی ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG