رسائی کے لنکس

ہماری تنخواہیں ججوں سے کم کیوں ہیں؟ سینیٹر کا شکوہ


سینیٹرز کا کہنا تھا کہ قانون ہم بناتے ہیں اور ہماری تنخواہ ہائی کورٹ کے جج کے برابر بھی نہیں۔ ہم نے کیا قصور کیا ہے کہ ہماری تنخواہ کم ہے۔

پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں قانون ساز ججز کی تنخواہوں اور مراعات کا سن کر جذباتی ہو گئے اور کہا کہ قانون ہم بناتے ہیں لیکن ہماری تنخواہ اتنی نہیں۔

سینیٹ کو بتایا گیا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی ماہانہ تنخواہ 8 لاکھ 46 ہزار 549 روپے اور سپریئر جوڈیشل الاؤنس 3 لاکھ 70 ہزار 597 روپے ہے۔

پاکستان کے سینیٹ میں اس وقت دلچسپ صورت حال پیدا ہو گئی جب سینٹروں کو پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی مراعات بارے بتایا گیا تو ججوں کی تنخواہوں کا سن کر سینیٹر جہانزیب جمالی جذباتی ہو گئے اور کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کی تنخواہ 15 لاکھ تک بنتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قانون ہم بناتے ہیں اور ہماری تنخواہ ہائی کورٹ کے جج کے برابر بھی نہیں۔ ہم نے کیا قصور کیا ہے کہ ہماری تنخواہ کم ہے جس پر اجلاس کی صدارت کرنے والے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ عبد الغفور حیدری نے کہا کہ اس معاملے میں، میں بھی آپ کے ساتھ ہوں۔

وفاقی وزیر قانون زاہد حامد ایوان میں اپنی نشست پر کھڑے ہوئے اور بولے کہ پارلیمنٹ کے ارکان کا کوئی قصور نہیں ہے۔

سینیٹ کو وفاقی وزیر قانون کی جانب سے بتایا گیا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی ماہانہ تنخواہ 8 لاکھ 46 ہزار 549 روپے اور ان کا سپریئر جوڈیشل الاؤنس 3 لاکھ 70 ہزار 597 روپے ہے۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تنخواہ 7 لاکھ 84 ہزار 608 روپے اور سپریئر جوڈیشل الاؤنس 2 لاکھ 96 ہزار 477 روپے ہے۔

وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے ایوان کو بتایا کہ اگر سرکاری رہائش نہ ہو تو ہاؤس رینٹ کی مد میں 68 ہزار روپے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو اور 65 ہزار روپے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ادا کئے جاتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے جج کی تنخواہ 7 لاکھ 99 ہزار 699 روپے اور سپریئر جوڈیشل الاؤنس 3 لاکھ 70 ہزار 597 روپے ہے جبکہ سرکاری رہائش نہ ہونے کی صورت میں 6800 ہزار روپے ہاؤس رینٹ ادا کیا جاتا ہے اسی طرح ہائی کورٹ کے جج کی تنخواہ 7 لاکھ54 ہزار 732 روپے ہے اور ان کا سپریئر جوڈیشل الاؤنس 2 لاکھ 96 ہزار 477 روپے ہے۔ سرکاری رہائش نہ ہونے کی صورت میں انہیں 65000 ہزار روپے ہاؤس رینٹ ادا کیا جاتا ہے۔ چیف جسٹسز اور ہائی کورٹ کے ججوں کومیڈیکل الاؤنس کی سہولت بھی حاصل ہے اس کے علاوہ دیگر مراعات بھی دی جاتی ہیں۔

پاکستان میں گذشتہ چند برسوں کے دوران مختلف سرکاری اداروں میں کام کرنے والے افسران اور ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا ہے اور سب سے زیادہ اضافہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہل کاروں اور فوجی اہل کاروں کی تنخواہوں میں ہوا تھا جس کی وجہ ملک میں امن وامان کی ابتر صورت حال تھی۔ اضافے کا مقصد ان کی تنخواہوں کو نجی شعبہ کے برابر لانا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG