رسائی کے لنکس

پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ پارلیمانی رابطوں کی تجویز


پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے ایک گروپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ پارلیمانی رابطے قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔

یہ تجویز پاکستانی سینیٹ میں بھارت کے ساتھ دوستی کے پارلیمانی گروپ کی طرف سے سامنے آئی ہے۔

اس گروپ کے کنوینر اور حزب مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی کے سینیٹر کریم احمد خواجہ نے جمعرات کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا گزشتہ 70 سے باہمی تعلقات کشیدگی کو شکار ہیں اورانہیں بہتر کرنے کے لیے پارلیمانی رابطے بھی ایک کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ " ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے پارلیمانی اداروں کے درمیان رابطے ہونے چاہیں اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی پنجاب اور بھارتی پنجاب اور پاکستان کے صوبہ سندھ اور بھارت کی راجھستان اور گجرات (ریاستوں) کے قانون ساز اداروں کے درمیان رابطے ہونے چاہیے۔"

انہوں نے کہا کہ دونون ملکوں کے قانون سازوں کے درمیان رابطے باہمی معلامات کو حل کرنے میں معاون ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کار اے ایچ نیئر نے اس تجویز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پارلیمان کی طرف سے ایسی تجویز کا آنا ایک خوش آئند بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے قانون ساز بااختیار لوگ ہیں اور وہ اپنے اپنے ہاں پالیسی سازی کی کمیٹیوں میں شامل ہیں اور ان کے بقول وہ اپنی حکومتوں کی پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ،" دونوں طرف کے قانون ساز اداروں کے اندر جہاں فیصلہ سازی ہوتی ہے وہاں پر ایک دوسرے کے لیے مفاہمت پیدا ہو گی دونوں ملکوں کے قانون سازوں کے درمیان بات چیت کے ذریعے ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور خاص طور پر دونوں ملکوں میں جو انتہا پسند سوچ کے حامل عناصر ہیں ان کے مقابلے میں دونوں طرف ایک مضبوط آواز بلند ہو گی اس لیے ضروری ہے کہ ایسے رابطے ہوں۔ "

پاکستان اور بھارت کے پارلیمان وفود کے درمیان رابطوں کی تجویز ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان اور اسلام آباد اورنئی دہلی تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں اور سفارتی رابطے بھی تعطل کا شکار ہیں۔

اے ایچ نیئر نے کہا کہ جنوبی ایشیا کے امن و سلامتی کے لیے پاکستان اور بھارت کے تعلقات کا بہتر ہونا ضروری ہے اور ان کے بقول اس کے لیے اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیاں نہ صرف سفارتی رابطوں کو بحال کرنا ضروری ہے بلکہ دونوں ملکوں کے درمیاں ہرطرح کے عوامی رابطوں کو بھی فروغ دینا ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG