رسائی کے لنکس

’پاکستانیوں کی پراپرٹی کی تحقیقات میں دبئی حکام تعاون نہیں کرتے‘


پاکستان کے محصولات کے وفاقی ادارے، ’ایف بی آر‘ کا کہنا ہے کہ دو طرفہ باہمی ٹیکس معاہدے کے باوجود دبئی کے حکام ان پاکستانی شہریوں سے متعلق معلومات فراہم نہیں کر رہے جنہوں نے مبینہ طور پر وہاں کی ریئل اسٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

یہ بات ایف بی آر کے سربراہ طارق پاشا نے قومی اسمبلی کی امور خزانہ کی ایک ذیلی کمیٹی کو بتائی جو گزشتہ چار سالوں کے دوران دبئی کی جائیداد کی خرید و فروخت کی مارکیٹ میں کئی ارب ڈالر کی مبینہ سرمایہ کار ی کرنے والے پاکستانی شہریوں سے متعلق معلومات کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔

قبل ازیں طارق پاشا قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتا چکے ہیں کہ ان کے ادارے نے اس بارے میں تفصیلات معلوم کرنے کے لیے دبئی کی حکومت سے کئی بار رجوع کیا۔ تاہم، ابھی تک انہیں یہ معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

دبئی کی حکومت کی طرف سے تاحال اس معاملے پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

پاکستان کے سابق مشیر خزانہ سلمان شاہ نے بدھ کو وائس امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسی اطلاعات منظر عام پر آتی رہی ہیں کہ بعض پاکستانی شہریوں نے دبئی کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شاید ایف بی آر کو اس قسم کی معلومات فراہم کرنا دبئی کے مفاد میں نہیں ہے۔

سلمان شاہ نے مزید کہا کہ "یہ جاننے کے لیے وہاں کن لوگوں نے سرمایہ کاری کی ہے اور اس کی نوعیت کیا ہے اس کے لیے تحقیقات کی ضرورت ہے۔ شاید ایف آئی اے جیسا ادارہ یہ کام کر سکے۔"

اقتصادی امور کے ماہر عابد سلہری کا کہنا ہے کہ ملک میں ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کی غیر یقنیی صورت حال کے پیش نظر بعض پاکستانی شہری دبئی کو سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک بہتر آپشن سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "غیرقانونی ذرائع سے جو پیسہ اکھٹا ہو رہا ہے، اسے جب وہ پاکستان میں نہیں رکھ سکتے۔ تو وہ پیسہ باہر جانا شروع ہو گیا ہے ۔"

عابد سلہری نے مزید کہا کہ بیرون ملک کسی بھی پاکستانی شہری کے لیے بینک اکاؤنٹ کھولنا ایک مشکل کام ہے لیکن ہر پاکستانی اپنے ملک میں رہ کر دبئی میں جائیداد کی خرید و فروخت کی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔

تاہم قومی اسمبلی میں پارلیمانی سیکرٹری برائے خزانہ رانا محمد افضل کا کہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ کہیں بھی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔

رانا افضل نے کہا کہ "یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ سارا پیسہ پاکستان سے جا رہا ہے، یہ پاکستانی شہریوں کا پیسہ تو ہو سکتا ہے لیکن ان میں سے زیادہ پیسہ بیرون ملک مقیم پاکستانی شہریوں کا ہے۔ اس پر مزید کام ہو رہا ہے۔ یقینی طور ہم چاہیں گے کہ پیسہ پاکستان سے بیرون ملک منتقل نہیں ہونا چاہیے۔"

تاہم انہوں نے مزید کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستان شہریوں کو حق ہے کہ وہ چاہیے پیسہ پاکستان بھیجیں چاہیے اسے وہیں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کریں ان کے بقول اس پر حکومت کوئی قدغن نہیں لگا سکتی۔

گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ایسی اطلاعات منظر عام پر آتی رہی ہیں کہ ایک بڑی تعداد میں پاکستانی شہریوں نے دبئی کی ریئل اسٹیٹ کی مارکیٹ میں گزشتہ چار سالوں کے تقریباً 8 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے تاہم اس بارے میں کوئی مصدقہ تفصیلات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG