رسائی کے لنکس

logo-print

فلاڈیلفیا میں سیاہ فام شخص کی پولیس فائرنگ سے ہلاکت پر ہنگامے


جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد فلاڈلفیا میں پولیس اور مظاہرین میں 30 مئی 2020 کو مڈبھیڑ کا ایک منظر (فائل فوٹو)

مظاہرین کے پتھراو میں چار پولیس والے زخمی ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص خنجر سے مسلح تھا۔

امریکہ کی ریاست پنسلوانیا کے شہر فلاڈیلفیا میں ایک سیاہ فام شخص کی پولیس فائرنگ سے ہلاکت کے بعد پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے اور مظاہرین کے پتھراؤ کے نتیجے میں چار پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ پیر کی شب شروع ہوا جس کے بعد کئی مقامات پر مظاہرین نے لوٹ مار بھی کی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص خنجر سے مسلح تھا۔

نیوز چینل 'این بی سی' کے مطابق، چار پولیس آفیسر اس وقت زخمی ہوئے جب ایک پولیس اسٹیشن کے سامنے مظاہرے کے دوران تشدد پھوٹ پڑا۔ پتھراؤ کے سبب زخمی ہونے والے آفیسروں کو اسپتال لے جانا پڑا۔

گولی چلنے سے متعلق ،سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے خنجر ہاتھ میں لئے ستائیس سالہ شخص جسے عہدیدار والٹر ویلیس کے نام سے پہنچان رہے ہیں، دو پولیس آفیسروں کی جانب بڑھ رہا ہے۔ پولیس آفیسر بندوق تانے والٹر کو تنبیہہ کر رہے ہیں کہ وہ خنجر پھینکنے دے۔

خبر رساں ادارہ رائٹرز نے کہا ہے کہ وہ ایک راہ گیر کی جانب سے اس واقعہ کی بنائی گئی اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ویڈیو کی فوری طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو پولیس والوں نے سڑک پر جاتے ویلیس نامی ایک شخص پر بندوقیں تانی ہوئی ہیں۔

وڈیو کے مطابق وہ شخص پولیس والوں کی طرف بڑھتا ہے اور پولیس والے بندوقیں تانے پیچھے کی جانب ہٹتے ہوئے اس سے چاقو پھینکنے کا کہہ رہے ہیں۔ دونوں پولیس آفیسروں نے اس کے بعد متعدد گولیاں چلائیں جس سے ویلیس کو زمین پر گرتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔

ویلیس کی ہلاکت کے بعد، مقامی پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں شروع ہو گئیں۔
شہر کے میئر جم کینی اور پولیس کمشنر ڈینئیلے آؤٹ لا نے اپنے الگ الگ بیانات میں کہا ہے کہ اس واقعہ نے سوالات کو جنم دیا ہے اور اس کی تفیش ہو رہی ہے۔ جم کینی کا کہنا ہے کہ محکمہ پپولیس اس واقعہ کی مکمل تفتیش کرے گا۔

پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ وہ ویلیس کی ہلاکت پر لوگوں کے اشتعال سے آگاہ ہیں۔

اس نوعیت کے تشدد کے واقعات کی یہ تازہ ترین کڑی ہے۔ اس سے قبل نسل پرستی کے خلاف مظاہرے اس سال مئی میں اس وقت شروع ہوئے تھے جب چھیالیس سالہ افریقی امریکی جارج فلائیڈ منی آپلس میں اس وقت دم توڑ گیا جب ایک پولیس والے نے فلائیڈ کو تحویل میں لینے کے عمل کے دوران اس کی گردن نو منٹ تک گھٹنے سے دبائے رکھا جس سے اس کا دم گھٹ گیا۔

منی آپلس کے واقعہ کے بعد، ملک بھر میں نسلی مساوات اور پولیس کی کاروائیوں کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG