رسائی کے لنکس

روس کے خلاف یورپی یونین کی اقتصادی پابندیوں میں توسیع


روس کے صدر ولادی میر پوٹن۔ فائل فوٹو

یورپی یونین کے راہنما مشرقی یوکرین کے تنازعے میں روس کے عمل دخل کی بنا پر اس کےخلاف عائد کی گئی سخت اقتصادی پابندیوں میں توسیع کر رہے ہیں۔

جمعرات کے روز یورپی یونین کے سربراہ اجلاس میں اعلان کئے گئے اس فیصلے کے تحت ماسکو کے خلاف پابندیوں میں جولائی 2018 تک توسیع ہو جائے گی۔

روسی صدر ولادی میر پوٹن نے سال کی اپنی آخری پریس کانفرنس میں پابندیوں کے مسئلے پر بات نہیں کی لیکن انہوں نے یہ ضرور کہا کہ اگر یوکرین کے قوم پرستوں نے مشرقی یوکرین میں قتل عام کی کسی کارروائی کا ارتکاب کیا تو ماسکو نواز علیحدگی پسند فورسز اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

ولادی میرپوٹن کا کہنا تھا کہ ڈان باس کے علاقے میں روس کی کوئی فوج موجود نہیں ہے، لیکن وہاں درحقیقت کچھ مخصوص فوجی دستے تھے جو خود مختار تھے اور ڈان باس کے خلاف کسی بڑی فوجی کارروائی کے مقابلے کے لیے تیار تھے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ علاقے میں رہنے والے لوگوں کے مفادات کی نمائندگی گی کرتے ہیں کیوں کہ اگر ان کے پاس یہ راستہ باقی نہیں رہتا تو ا ن نام نہاد قوم پرست عسکری دستوں کے ہاتھوں وہ قتل عام ہو گا جس کا آپ صحافیوں نے ذکر کیا تھا، جو سربرینیچا سے بھی بد تر ہو گا۔

مسٹر پوٹن نے یہ بھی کہا کہ کی ایف میں مغرب نواز حکومت مشرقی یوکرین کے تنازعے کے کسی حل کی تلاش کے لیے ہونے والے منسک کے عمل میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے اور قیدیوں کے کسی تبادلے کے لیے ثالثی کی کوششوں کو مسدود کر رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG