رسائی کے لنکس

سعودی عرب کے ایک عہدیدار نے امریکہ کے موقر اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کی تردید کی ہے کہ سابق ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف کو ان کے محل میں نظر بند کر دیا گیا ہے اور ان کے بیرون ملک جانے پر بھی پانبدی عائد کر دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کے شاہ سلمان نے ایک شاہی فرمان کے ذریعے شہزادہ محمد نائف کو تمام عہدوں سے ہٹاتے ہوئے، اپنے بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان کو ولی عہد مقرر کیا تھا۔

شہزادہ محمد بن نائف ایک عرصہ تک سعودی عرب کے وزیر داخلہ کے طور بھی کام کرتے رہے ہیں اور اس دوران وہ شدت پسند تنظیم القاعدہ کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کی نگرانی کرتے رہے۔

نیویارک ٹائمز نے چار موجودہ اور سابق امریکی عہدیداروں اور شاہی خاندان کے قریبی سعودی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ محمد بن نائف پر "ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور ان کو اپنے محل تک محدود کر دیا گیا ہے۔"

سعودی عہدیدار نے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ سے متعلق استفسار کرنے پر خبر رساں ادارے روئیڑز کو بغیر کوئی تفصیل بیان کیے بتایا کہ "یہ سچ نہیں۔"

دوسری طرف سعودی ذرائع ابلاغ میں محمد بن سلمان کو سابق ولی عہد محمد بن نائف کے ہاتھ چومتے ہوئے تواتر کے ساتھ دکھا یا جا رہا ہے جس سے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ ولی عہد کے تبدیلی کا عمل خوش اسلوبی سے طے پا رہا ہے۔

محمد بن سلمان کے بارے میں دو سال سے یہ قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ انہیں کسی اہم عہد پر فائز کیا جا سکتا ہے اور بالآخر بادشاہ سلمان نے انہیں رواں ماہ شہزادہ محمد بن نائف کی جگہ ملک کا نیا ولی عہد مقرر کر دیا۔

تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اب بھی انہیں اپنے کئی اہم عزیزوں، مذہبی رہنماؤں اور قبائلی عمائدین کی حمایت حاصل کرنی ہو گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG