رسائی کے لنکس

امریکہ و جنوبی کوریا کے صدور کی متوقع ملاقات، اہم اُمور پر غور ہو گا


فائل فوٹو

ٹرمپ اور مون کے درمیان سب سے واضح اختلاف جنوبی کوریا میں میزائل دفاعی نظام تھاڈ 'ٹرمینل ہائی الٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس  ‘ کی تنصیب کے معاملے پر ہے۔

امریکہ اور جنوبی کوریا کے راہنماؤں درمیان آئندہ ماہ ہونے والی ملاقات کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی طرف سے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر اس ملاقات کا محور متوقع طور پر پیانگ یانگ کے معاملے پر اختلافات کو کم کرنے پر ہو گا۔

جنوبی کوریا کے حال ہی میں منتخب ہونے والے صدر مون جئی کے ایک ترجمان نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ صدر مون کی امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ جون کے اواخر میں واشنگٹن میں ملاقات طے ہے تاہم وائٹ ہاؤس نے تاحال اس ملاقات کی تصدیق نہیں کی ہے۔

جنوبی کوریا کو شمالی کوریا کی طرف سے کیے جانے والے کئی میزائل تجربات پر تشویش ہے اور ان میں تازہ ترین اتوار کو کیا گیا درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ تھا۔

شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی 'کے سی این اے' کا کہنا ہے کہ میزائل تقریباً پانچ سو ساٹھ کلومیٹر کی بلندی پر جاپان کی طرف پرواز کرتے ہوئے پانچ سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد بحیرہ جاپان میں گر گیا اور اس کے تمام ضروری تکنیکی اہداف کو حاصل کر لیا گیا ہے اور اب اس کی پیداوار بڑے پیمانے پر کی جا سکتی ہے۔

2005 اور 2008 کے دوران سیئول میں بطور امریکہ کے سفیر کام کرنے والے الیگزینڈر ورشبو نے ’وی او اے‘ کی کورین سروس کو بتایا کہ "یقینی طور پر بعض ایسے معلامات ہیں جنہیں مون جئی کے صدارت کے ابتدائی دور میں حل کرنا ضروری ہے۔"

انہوں نے کہا کہ "دورے کے دوران سب سے پہلے مون جئی کی توجہ اس بات پر ہو گی کہ پیانگ یانگ کے ساتھ معاملات کرنے کے لیے ایک متحدہ نقطہ نظر کو کس طرح یقینی بنایا جا سکتا ہے۔"

ٹرمپ اور مون کے درمیان سب سے واضح اختلاف جنوبی کوریا میں میزائل دفاعی نظام تھاڈ 'ٹرمینل ہائی الٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس ‘ کی تنصیب کے معاملے پر ہے۔

مون نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا تھا کہ وہ میزائل شیلڈ کے معاملے پر واشنگٹن اور بیجنگ کے ساتھ "سنجیدہ مذاکرات" کریں گے۔

تاہم حال ہی میں امریکہ کے محکمہ خارجہ نے اپنے پہلے موقف کی تصدیق کرتے ہوئے ’وی او اے‘ کی کوریئن سروس کو بتایا کہ "جنوبی کوریا اور اس کے عوام اور اتحادی فورسز کو شمالی کوریا کے میزائل کے خطرے سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے تھاڈ کے بطور ایک دفاعی اقدام کے طور پر نصب کرنا ایک متحدہ فیصلہ تھا۔"

مون جو انسانی حقوق کے وکیل رہے ہیں، وہ تعزایرات کو برقرار رکھتے ہوئے پیانگ یانگ کے ساتھ بات چیت کے حامی رہے ہیں۔

دوسری طرف ٹرمپ بظاہر شمالی کوریا پر دباؤ میں اضافہ کرنے کے لیے چین کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جنوبی کوریا کے صدر مون کئی موقعوں پر یہ کہہ چکے ہیں کہ مناسب حالات میں وہ شمالی کوریا کے راہنما کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

حال ہی میں بلوم برگ نیوز کے ساتھ ایک انٹریو میں ٹرمپ نے بھی اس موقف کی حمایت کی تھی۔

امریکی خفیہ ادارے 'سی آئی اے' کے ایک سابق عہدیدار بروس کلنگر نے ’وی اے او‘ کی کوریئن سروس کو بتایا کہ واشنگٹن میں صدر مون کے کوریا کے معاملے سے متعلق طریقہ کار کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG