رسائی کے لنکس

وینزویلا: حزبِ اختلاف کے دو رہنما گرفتار


وینزویلا میں ایک حکومت مخالف کارکن آزادی کے ہیرو سائمن بولیور کے کاسٹیوم میں قومی پرچم کے ساتھ مظاہرہ کر رہا ہے۔ 24 جولائی 2017

لیو پولڈو  لوپز اور انٹونیو لیڈیزما کے خاندانوں نے کہا ہے کہ ان دونوں کو منگل کی صبح وینزویلا کی انٹیلی جینس سروس کے عہدے دار  پکڑ کر اپنے ساتھ  لے گئے۔

وینزویلا کی قومی اسمبلی کا آئین از سر نو لکھنے کے لیےایک قومی اسمبلی کی تشکیل کے لیے متنازع ووٹنگ کے دو دن بعد حزب اختلاف کے دو راہنماؤں کو، جو گھر میں نظر بند تھے، ریاستی سیکیورٹی فورسز نے ان کی رہائش گاہوں سے گرفتار کر لیا ہے۔

لیو پولڈو لوپز اور انٹونیو لیڈیزما کے خاندانوں نے کہا ہے کہ ان دونوں کو منگل کی صبح وینزویلا کی انٹیلی جینس سروس کے عہدے دار پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔

دونوں راہنماؤں کے خاندانوں نے ٹویٹر پر اس موقع کی ویڈیوز پوسٹ کر دیں جب انہیں گرفتار کر نے کے بعد لے جایا جا رہا تھا۔

وینزویلا کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ دونوں راہنما ؤں کو اس لیے جیل بھیجا گیا کیوں کہ انٹیلی جینس کے سرکاری ذرائع کو پتا چلا تھا کہ وہ فرار ہونے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

ان دونوں لیڈروں نے چند روز پہلے ویڈیو پیغامات جاری کیے تھے جن میں انہوں نے اپنے حامیوں پر زور دیا تھا کہ وہ اسمبلی کی تشکیل کے لیے اتوار کے روز ہونے والی ووٹنگ کا بائیکاٹ کریں۔

حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ صدر نکولس میڈورو اسمبلی کی تشکیل کے پردے میں وینزویلا میں آمریت قائم کرنا چاہتے ہیں۔

لوپاز اور لیڈیزما ، دونوں کو مختلف الزامات کی بنا پر اپنے گھروں میں نظر بند کیا گیا تھا۔ لوپاز نظر بند ہونے سے پہلے صدر کے خلاف مظاہرے کرنے اور لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے الزام میں تین سال جیل کاٹ چکے ہیں۔ جب کہ لیڈیزما کو 2015 میں صدر نکولس کا تختہ الٹنے کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔

امریکی قائم مقام معاون وزیر خارجہ فرانسسکو پالمیری نے ٹویٹر پر لکھا کہ امریکہ کو ان دونوں کی گرفتاری پر تشویش ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG