رسائی کے لنکس

کیا کہا؟ ٹرک چلانا مردوں کا کام ہے؟


ٹرک ڈرائیور کیلی میگھلن۔ (فائل فوٹو)

پاکستان میں خواتین سائیکل، موٹر سائیکل، اوبر اور رکشہ چلاتی نظر آرہی ہیں تو امریکہ میں خواتین ایک قدم اور آگے نکل چکی ہیں۔ ٹرک چلانا جو اب سے کچھ عرصے پہلے تک خالصتاً مرادنہ شعبہ سمجھا جاتا تھا، اب یہاں بھی خواتین کے قدم ایکسیلیریٹر پر نظر آرہے ہیں۔

امریکی ہائی ویز پر دندناتے 18 پہیوں والے دیو ہیکل ٹرکس کی ہیبت دیکھ کر اکثر چھوٹی گاڑیوں والے ان سے دور ہی رہتے ہیں۔ کبھی چالیس فیٹ کے کنٹینرز اٹھائے تو کبھی ایک وقت میں دسیوں گاڑیاں لادے یہ ٹرک نہ چلانا آسان ہے نہ ان کے اوقات کار کے مطابق شب و روز گذارنا۔

کوئی بڑا ٹرک آتے دیکھ کر ذہن میں خود ہی یہ تصور ابھر آتا ہے کہ اسے چلانے والا ریسلر جیسی جسامت والا کوئی مرد ہی ہوگا مگر اب آپ امریکہ کے سفر پر آئیں تو غور سے دیکھیے گا، بہت ممکن ہے اسٹیئرنگ وہیل پر آپ کو کوئی خاتون ڈرائیور نظر آئے۔

وائس آف امریکہ کے نمائندے میٹ ہینز سے بات کرتے ہوئے گارنر ٹرکنگ کمپنی کی سربراہ شیری گارنر برمباہ کہتی ہیں کہ امریکہ میں خواتین ٹرک ڈرائیورز کی تعداد وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہے مگر جب بھی وہ کسی خاتون ٹرک ڈرائیور کو دیکھتی ہیں تو انہیں "تھمبز اپ" ضرور دیتی ہیں، کیونکہ یہ خواتین ٹرکنگ کی صنعت میں تبدیلی لا رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق کرونا وبا نے خواتین کی اس فیلڈ میں تعداد بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ملک بھر میں خریداری میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے مصنوعات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کی طلب بھی بڑھی ہے۔ ترسیلات کا نظام متاثر ہوا ہے، مصنوعات کے کنٹینرز تیار کھڑے ہیں مگر انہیں لے جانے والے ڈرائیورز کی تعداد کم ہے۔

ٹرکنگ کمپنیز مستقل ان دیو ہیکل ٹرکس کو چلانے والے ڈرائیورز کی متلاشی ہیں۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے بہت سی کمپنیز اب خواتین ڈرائیورز کو بھرتی کرنے میں دلچسپی دکھا رہی ہیں۔

ویمن ان ٹرکنگ نامی ادارے کی سربراہ ایلن ووئی بتاتی ہیں کہ پچاس سے ستر کی دہائیوں میں یہ نہ صرف خالصتاً مردوں کا شعبہ تھا بلکہ چونکہ اس میں بہت جسمانی قوت درکار ہوتی تھی اس لیے عموماً ٹرک ڈرائیورز لمبے، چوڑے اور مضبوط جسمانی ساخت والے افراد ہوا کرتے تھے۔ وقت کے ساتھ ٹیکنالوجی میں بہتری آتی گئی۔ پہلے پاور سٹیئرنگ آئے پھر پاور بریکس اور اب تو ٹریلر ہٹانے اور جوڑنے کا طریقہ کار بھی تبدیل ہوچکا ہے۔

ریاست جارجیا سے تعلق رکھنے والی ونیتا جانسن پچاس سال کی عمر میں اس پیشے سے وابستہ ہوئی ہیں۔ ونیتا کے مطابق انہیں ہمیشہ ہی کھلی سڑکوں پر دوڑتے بڑے بڑے ٹرکس محظوظ کرتے تھے۔ بچپن میں وہ والدین کے ساتھ سفر کرتے ہمیشہ سوچا کرتی تھیں کہ یہ ٹرکس کہاں جاتے ہیں؟

آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو کہ ونیتا پہلے ایک اسکول ٹیچر تھیں مگر جب کرونا وبا کی وجہ سے پڑھائی کا طریقہ کار ورچوئل لرننگ میں تبدیل ہوا انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ کام نہیں کریں گی، چنانچہ انہوں نے ٹرک ڈرائیور بننے کے بارے میں سوچا۔

ونیتا کے مطابق امریکہ میں ٹرک ڈرائیورز کو 'سڑک کا سپاہی' سمجھا جاتا رہا ہے کیونکہ یہ نہ صرف امریکی معیشت کو کاندھے پہ اٹھائے رواں دواں ہوتے ہیں بلکہ ماضی میں سڑک پر چلتی عام گاڑیوں کی بھی مشکل وقت مدد کرتے نظر آتے رہے ہیں۔

مگر اب حالات ذرا مختلف ہو چکے ہیں۔ ماضی کے تجربہ کار ڈرائیورز ریٹائر ہو چکے ہیں اور اس شعبے میں نئے آنے والے نوجوانوں کی کمی ہے۔ امریکن ٹرکنگ ایسوسی ایشن کے اندازے کے مطابق ملکی ضروریات کے پیش نظر اگلے دس برسوں میں ملک میں بارہ لاکھ سے زیادہ ڈرائیورز کی ضرورت ہوگی۔ ان کے مطابق ٹرکنگ کمپنیز کو اس شعبے میں بھرتیاں بڑھانے کے لیے محنت کرنا ہوگی۔

شیری گارنر برمباہ کے مطابق وقت تبدیل ہوگیا ہے۔ ٹرکنگ کمپنیز کو سمجھنا ہوگا کہ اگر اب ڈرائیور یہ چاہتا ہے کہ ہفتے کے اختتام پر وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ ہو تو اسے ممکن بنانا ہی پڑے گا۔

مگر اسی صورتحال میں ٹرکنگ کمپنیز نئے مواقع بھی تلاش کر رہی ہیں۔ انہیں میں ایک موقعہ ہے درمیانی اور بڑی عمر کی خواتین کو اس شعبے کی طرف لبھانے کا۔ ان خواتین کے لئے کھلی سڑکوں پر ٹرک دوڑانا پرکشش تجربہ ہوسکتا ہے۔

اور ٹرکنگ کمپنیز کی یہ کوشش رنگ لاتی ہوئی دکھائی بھی دے رہی ہے۔

ایک سروے کے مطابق 2007 میں ٹرک ڈرائیورز میں خواتین کی شرح محض %3 تھی جو اب تین گنا بڑھ چکی ہے۔

گو کہ ٹرک چلانا اب جسمانی طور پر اتنا مشقت طلب کام نہیں رہا اور امریکہ میں اس سے رومانیت بھی جڑی ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ کام پھر بھی آسان نہیں۔

بار بار کئی کئی روز گھر سے دور رہنا، لمبی چوڑی سڑکوں پر مستقل سفر کرنا، اپنے ٹرک میں ہی سونا آرام دہ زندگی کے تصور سے بہت دور ہے۔

سات سال سے ٹرک چلانے والی کیلی لن مک لالن کے مطابق ٹرک ڈرائیونگ کا شمار خطرناک ترین ملازمتوں میں ہوتا ہے۔ کیلی لن کہتی ہیں ٹرک چلانے والے کو اپنی سواری کی تمام تکنیکی باتوں کا علم ہونا لازمی ہے۔ پھر سڑک پر گھنٹوں مستقل سفر کرنے والے ڈرائیور کا دماغ چین سے نہیں رہ سکتا۔ ڈرائیور کو گاڑی چلانے کے ساتھ مستقل حاضر دماغی دکھانی پڑتی ہے۔

ساتھ میں مردوں کی اکثریت والے اس شعبے میں خواتین کی ہراسانی کے امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

XS
SM
MD
LG