رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا بحران میں بقا کی جنگ میں مصروف دو پاکستانی امریکی ریستوران


فائل فوٹو

کرونا بحران کے اس سال میں سیاحت سے متعلقہ سرگرمیاں کم ہونے سے واشنگٹن ڈی سی اور اس کے گرد و نواح میں ریستورانوں اور ہوٹلوں کے کاروباروں کو شدید دھچکا لگا ہے۔

واشنگٹن اور اس سے ملحقہ ورجینیا اور میری لینڈ کی ریاستوں میں تارکین وطن کے کئی ریستوران ہیں، جو اپنے منفرد اور لذیذ کھانوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔ دوسرے کاروباروں کی طرح ان ریستورانوں کو بھی اس سال کڑے امتحان سے گزرنا پڑا۔

سال بھر سے عائد سماجی فاصلے برقرار رکھنے کی بندشوں, لوگوں کے گھروں میں محصور ہونے اور تقریبات کے نہ ہونے کے باوجود کچھ ریستوران اپنا کاروبار کسی نہ کسی طور پر چلاتے رہے۔ ان میں سے چند نمایاں مقامات پر واقع رستورانوں کو ان کے مالکان اور کارکنوں کی محنت اور نئے طریقے اپنانے پر امریکی میڈیا اور عوامی سطح پر ان کی پذیرائی بھی ہوئی۔

قاضی منان واشنگٹن کے دل میں واقع 'کے اسٹریٹ' پر قائم 'سکینہ گرل ہلال' کے مالک ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دوسرے چھوٹے درجے کے کاروباروں کی طرح ان کے کاروبار کو بھی شدید چیلنجز کا سامنا رہا۔

قاضی منان، سکینہ ر یستوران
قاضی منان، سکینہ ر یستوران

وہ کہتے ہیں کہ سیاحوں کے علاوہ ان کے کاروبار کا دار و مدار واشنگٹن کے دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین پربھی تھا، لیکن لاک ڈاون اور اس کے بعد کئی ماہ سے دفاتر بند ہونے یا ان میں کارکنوں کی تعداد بہت محدود ہونے کے باعث ان کے کاروبار کو مستقل نقصان کا سامنا رہا۔

انہوں نے کہا کہ ''ہم نے حکومت کی طرف سے دیے گئے پے چیک پروگرام سے ملازمین کو تنخواہ دے کر اور کھانے گھروں تک پہنچانے کی سروس سے رستوران کو کھلا رکھا۔ـ مقامی حکومت نے موسم گرما میں جب گاہکوں کو رستوران کے باہر بیٹھے مہمانوں کو کھانا پیش کرنے کی اجازت دی تو کاروبار میں کچھ بہتری کی امید پیدا ہوئی۔"

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کانگریس کے تعاون سے دیے گئے پہلے کرونا ریلیف پروگرام میں چھوٹے درجے کے کاروبار کو اپنے ورکرز کی ملازمت برقرار رکھنے کے لیے پے چیک اور قرضوں کی سہولت دی تھی۔ اس ہفتے منظور ہونے والے نئے بل میں بھی یہ سہولت رکھی گئی ہے۔

سکینہ ریستوران کے باہر گاہکوں کو کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔
سکینہ ریستوران کے باہر گاہکوں کو کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔

منان کہتے ہیں کہ انہوں نے قرضے کی سہولت استعمال نہیں کی اور ساتھ ہی بے گھر لوگوں کو مفت کھانا کھلانے کی اپنی روایت بھی برقرار رکھی جس کی بدولت پہلے ہی ان کو ریستوران کو امریکی میڈیا میں سراہا گیا۔

لیکن جوں جوں کرونا بحران طویل ہوتا گیا، ان کے لیے چیلنجز بڑھتے گئے اور ایک وقت تو ایسا آیا موسم سرما کے آغاز میں گاہگوں کی کمی اور عمارت کے اندر کھانا پیش کرنے پر ممانعت کی وجہ سے کاروبار ٹھپ ہوتا ہوا نظر آیا۔

دوستوں کے مشورے پر انہوں نے فنڈ ریزنگ کی ایک کوشش کی۔ منان جن کے بے گھر لوگوں کھانا کھلانے پر امریکی میڈیا میں کئی رپورٹس آئیں، اس وقت حیران رہ گئے جب لوگوں نے ان کے اس کام کو یاد رکھا اور ان کی توقعات سے بڑھ کر ان کی مدد کی اور اب وہ اس رقم سےاپنا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: "میں نے بے گھر لوگوں کو مفت کھانا اپنا ایک انسانی اور مذہبی فریضہ سمجھ کر ادا کیا، لیکن اب میں نے عملاً اس بات کی مثال دیکھی ہے کہ اگر ہم عوامی بھلائی کے لیے کچھ کرتے ہیں تو مشکل وقت میں ہمیں لوگوں کی طرف سے حوصلہ افزائی ضرور ملتی ہے۔"

وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں ان کا کاروبار محض 20 فیصد رہا، لیکن وہ بقا کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس بحران میں امریکی حکومت کو چھوٹے کاروبار کے لیے پے چیک اور قرضے کی سہولتیں جاری رکھنا ہوں گی تاکہ کاروبار ان حالات کا مقابلہ کر سکیں اور عالمی وبا کے خاتمے پر واشنگٹن کی رونقوں کو بحال کرنے میں مدد گار ہوں۔

واشنگٹن سے تقریباً آدھے گھنٹے کے فاصلے پر ورجینیا میں ٹائی سنز کارنر کے صنعتی علاقے میں پاکستانی امریکی رستوران سیفائر ہے۔ اس کے مالک مظہر چغتائی کہتے ہیں کہ کووڈ نائینٹین سے بچاوکی پابندیوں کو سامنے رکھتے ہوے انہوں نے ایک منصوبے پر عمل کرتے ہوئے اپنے کاروبار کو چلایا۔

ورجینیا میں واقع سفائر ریستوران کے مالک مظہر چغتائی
ورجینیا میں واقع سفائر ریستوران کے مالک مظہر چغتائی

اول انہوں نے رستوران کے وکرز کو اعتماد میں لیاکہ چیلنج سب کے لیے یکساں ہے اور پھر تمام تر توجہ نت نئےطریقے اپنانے پر مرکوز کی۔ ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رستوران کے پکائے کھانے کو گھروں تک پہنچانے کی سہولت پر انحصار کیا دوسری طرف انہوں نے رستوران کے باہر کھلے موسم میں گاہگوں کو کھانا پیش کیا۔

اس طرح وہ کہتے ہیں کہ روستوران کو بندشوں اور سماجی فاصلوں کی پابندی کرتے ہوئے کھلا رکھا۔

انہوں نے حکومت کی طرف سے پے چیک اور قرضہ کی سہولت کو استعمال کرتے ہوئے ٹائی سنز کارنر کے مہنگے علاقے میں رستوران کو چلایا۔

"ہماری آمدنی کرونا سے پہلے وقت کے مقابلے میں محض 35 فی صد رہی ہے۔ لیکن ہم نے ہمت نہ ہاری اور مستقل کوششیں کرتے رہے یوں ہمارے کارکن بھی بر سر روزگار رہے ۔"

چغتائی کہتے ہیں کہ ایسے حالات میں جبکہ ارد گرد کے کئی کاروبار بند ہو گئے ان کی کارکردگی کو امریکی میڈیانے تسلیم کیا ۔

" ہماری حوصلہ افزائی اس طرح ہوئی کے واشنگٹن پوسٹ کی بڑی اخبارنے ہمارے کاروبار کو ان کاروباروں میں منتخب کیا جن کے متعلق لکھ کر انہوں نے امریکہ کے اس اہم حصے میں کاروبار کی صورت حال کو جانچا۔ اور موسم گرما کے دوران ہمارے کام پر کئی بار اپ ڈیٹ کے ساتھ لکھا۔"

مظہر چغتائی کہتے ہیں کہ اب امریکہ کی الیکشن کے نتیجے میں آنے والی جو بائیڈن کی انتظامیہ نے بھی ان سے مشورہ کیا ہے کہ چھوٹے درجے کے کاروبار کو کیسے بچایا جائے تاکہ معیشت کی بحالی کو یقینی بنائا جائے۔

"میرے لیے یہ بھی اعزاز کی بات ہے کہ نئی امریکی حکومت نے ہماری لگن اور محنت کو دیکھتے ہوئے ہم سے رابطہ کیا اور کاروبار کے چلانے میں مشورہ کیا۔"

چغتائی نے بھی ان حالات میں کم آمدنی والے لوگوں کے گھروں میں کھانا تقسیم کیا اور وہ اسے اپنا معاشرتی اور مذہبی فریضہ قرار دیتے ہیں۔

"میں سمجھتاہوں حکومتی سہولتوں اور کاروباری تدابیر کے ساتھ ساتھ اگرہم اپنے انسانیت کے لیے پرخلوص کام کریں تو ہم مشکل ترین حالات میں بقا کی جنگ جیت سکتے ہیں۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG