رسائی کے لنکس

logo-print

القاعدہ سے روابط پر امریکی شہری پر فرد جرم عائد


نطرثانی شدہ فرد جرم میں محمود الفارخ پر امریکی شہریوں کو قتل کرنے اور بڑے پیمانے پر لوگوں کو ہلاک کرنے کی سازش کا الزام عائد کیا گیا۔

ایک امریکی شہری پر 2009 میں افغانستان میں ایک فوجی اڈے پر خود کش حملے کرنے کے لیے دھماکا خیز مواد تیار کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

نطرثانی شدہ فرد جرم میں محمود الفارخ پر امریکی شہریوں کو قتل کرنے اور بڑے پیمانے پر لوگوں کو ہلاک کرنے کی سازش کا الزام عائد کیا گیا۔

الفارخ پر اس سے قبل پاکستان جا کر القاعدہ کے ساتھ تربیت حاصل کرنے کا الزام عائد کیا جا چکا ہے

وہ جمعرات کو برک لین کی وفاقی عدالت میں پیش ہوں گے۔ ان کے وکیل کی طرف سے فوری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

ان الزامات کا تعلق 19 جنوری 2009 میں اس حملے سے ہے جس میں نامعلوم خود کش بمباروں نے بارود سے بھری دو گاڑیوں کو استعمال کرنا تھا، ان میں سے صرف ایک ہی (گاڑی) میں دھماکا ہوا۔

عدالتی دستاویز میں نہ تو فوجی اڈے کی شناخت ظاہر کی گئی اور نہ ہی اس حملے میں ہونے والے نقصان کی کوئی تفصیل بیان کی ہے۔

برکلین کے امریکی اٹارنی رابرٹ کپرز نے ایک بیان میں کہا کہ 30 سالہ الفاروق جو ٹیکساس میں پیداہوئے نے ’’ان امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کی کوشش کی جو ہمیں محفوظ رکھنے کے حلف کے تحت اپنے فرائض انجام دے رہے تھے‘‘۔

الفارخ کو ابتدائی طور پر دہشت گردوں کو معاونت فراہم کرنے کے الزامات کا سامنے کرنے کے لیے گزشتہ سال پاکستان سے امریکہ لایا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے ’اے پی‘ نے امریکی وفاقی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ الفاروق اور دو دوسری طالب علموں نے 2007 میں القاعدہ کے پروپیگنڈے سے متاثر ہونے کے بعد بیرون ملک جا کر عسکریت پسند بننے کا منصوبہ بنایا تھا۔

XS
SM
MD
LG