رسائی کے لنکس

logo-print

خود ساختہ جلا وطنی ختم، آسیہ بی بی کے وکیل پاکستان پہنچ گئے


فائل فوٹو

توہین مذہب کے مقدمے میں پاکستان کی سپریم کورٹ سے رہائی پانے والی مسیحی خاتون کے وکیل سیف الملوک اپنی خود ساختہ جلا وطنی ختم کر کے اپنی موکلہ کی عدالت میں وکالت کرنے کے لیے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ کا تین رکنی بینچ توہین مذہب کے مقدمے میں آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل کی سماعت منگل 29 جنوری کو کرے گا۔

اس بینچ کی سربراہی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کریں گے۔ جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل بھی بینچ کا حصہ ہوں گے۔

سپریم کورٹ منگل کو اس بات کا فیصلے کرے گی کہ کیا آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف نظرثانی کی درخواست قبول کی جائے یا نہیں۔

توہینِ مذہب کے مقدمے میں آسیہ بی بی کی بریت اور رہائی کے خلاف قاری محمد اسلام نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل دائر کی تھی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تفتیش کے دوران آسیہ بی بی نے جرم کا اعتراف کیا اس کے باوجود ملزمہ کو بری کردیا گیا۔ سپریم کورٹ سے استدعا ہے کہ آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی جائے۔ آسیہ بی بی اس الزام کو مسترد کرتی ہیں۔

سیف الملوک نے پیر کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان واپس پہنچ گئے ہیں اور وہ منگل کو سپریم کورٹ میں پیش ہو کر آسیبہ بی بی کا دفاع کریں گے۔

سیف الملوک نے اس توقع کا اظہار کیا کہ انہیں آخری بار آسیہ بی بی کی طرف سے عدالت میں پیش ہونا پڑے گا۔

سپریم کورٹ نے اکتوبر 2018ء آسیہ بی بی کو توہینِ مذہب کے ایک مقدمے میں دی گئی سزائے موت کو منسوخ کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ میں ان کی اپیل کے حق میں وکیل سیف الملوک نے دلائل دیے تھے جو عدالت کے فیصلے کے بعد خود بھی جان کو لاحق خطرات محسوس کرتے ہوئے پاکستان چھوڑ گئے تھے۔

پیر کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کے دوران انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ ان کی اپنی سیکورٹی سے متعلق خدشات بدستور موجود ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ واضح کیا کہ پاکستان میں ہی رہیں گے اور ملک کے محروم طبقات کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔

قبل ازیں نیدر لینڈ کی کرسچئن ڈیموکرٹیک پارٹی کے قانون ساز جوئیل وردی ونڈ نے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ سیف الملوک آسیہ بی بی کی طرف سے عدالت میں پیش ہونے کے لیے وطن واپس جا رہے ہیں۔

وردی ونڈ نے ٹوئٹر پر سیف الملوک سے اپنی ایک تصویر پوسٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج (ہفتے کی) دوپہر وہ سیف الملوک کو شیفول کے ائیر پورٹ پر چھوڑنے کے لیے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیف الملک کو عارضی طور پر ہالینڈ میں قیام کی اجازت دی گئی تھی تاہم وردی ونڈ کے بقول اب یہ سہولت ختم ہو جائے گی۔

آسیہ بی بی کو 2010ء میں پنجاب کی ایک ماتحت عدالت نے سزائے موت سنائی تھی جس کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے بھی آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کر دی تھی۔

گزشتہ سال 31 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے آسیہ بی بی کو بری کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد پاکستان میں مذہبی جماعتوں نے سخت احتجاج کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG