رسائی کے لنکس

logo-print

عبادی۔اوباما ملاقات، عراق کو 20 کروڑ ڈالر سے زائد کی نئی امداد


مسٹر اوباما نے کہا ہے کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ ہمسایہ ملکوں کی حیثیت سے، عراق اور ایران کے درمیان تعلقات ’اہم‘ ہونے چاہئیں۔ لیکن داخلی طور پر عراق میں ہونے والی کسی فوجی کارروائی کا کنٹرول لازمی طور پر عراق کے پاس ہی ہونا چاہیئے

امریکی صدر براک اوباما نے منگل کے روز انسانی بنیادوں پر عراق کو 20 کروڑ پانچ لاکھ ڈالر مالیت کی نئی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ تاہم، عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کی جانب سے اضافی ہتھیاروں اور فوجی اعانت فراہم کرنے کے بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا۔

اس سے قبل، دونوں رہنماؤں نے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ سات ماہ قبل مسٹر عبادی کے منتخب ہونے کے بعد اور امریکی قیادت میں کی جانے والی فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں، عراقی افواج بہتر طور پر مسلح ہوئی ہیں اور تربیت حاصل کی ہے؛ جب کہ گذشتہ برس داعش کے جنگجوؤں کے ہاتھوں قبضہ جمائے گئے علاقے میں سے تقریباً ایک چوتھائی کو خالی کرا لیا گیا ہے۔

تاہم، عراق کے لیے اضافی ہتھیاروں کے سوال پر، مسٹر اوباما نے صرف اتنا بتایا کہ امریکہ اور عراقی افواج کا آپسی رابطہ بہتر ہو رہا ہے، تاکہ عراقی افواج کی کامیابی کو یقینی بنایا جاسکے۔

امریکی رہنما نے کہا کہ اُنھوں نے عراق میں دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں ایران کے ملوث ہونے پر گفتگو کی۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ امریکہ کو اس بات کی توقع ہے کہ ہمسایہ ملکوں کی حیثیت سے، عراق اور ایران کے درمیان تعلقات ’اہم‘ ہونے چاہئیں، لیکن داخلی طور پر عراق میں ہونے والی کسی فوجی کارروائی کا کنٹرول لازمی طور پر عراق کے پاس ہی ہونا چاہیئے۔

مسٹر اوباما کے بقول، ’ایسی کوئی بیرونی اعانت جس کا مقصد داعش کو شکست دینے میں مدد دینا ہو، اُسے عراقی حکومت کی ماتحتی میں ہونا چاہیئے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ، ’اور اسی طرح، ہم عراقی اقتدار اعلیٰ کی عزت کرنا چاہتے ہیں‘۔

ملاقات سے قبل، مسٹر عبادی نے کہا کہ داعش کے شدت پسندوں سے لڑائی میں، وہ چاہتے ہیں کہ امریکی فوجی امداد میں ’قابل قدر اضافہ‘ کیا جائے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ کئی ماہ کے دوران، عراق میں تقریباً 1900 فضائی کارروائیاں کی گئی ہیں، جن کے باعث باغیوں کے زیر قبضہ ایک چوتھائی رقبہ خالی کرا لیا گیا ہے۔ تاہم، داعش کے شدت پسند گروہ کا ابھی تک عراق کے دوسرے بڑے شہر، موصل اور دیگر کلیدی علاقوں پر تسلط جاری ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ عراقی وزیر اعظم عبادی کی صدر براک اوباما سے ملاقات کے دوران، داعش کے شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں امریکی فوجی امداد میں اضافے کی درخواست کی تھی۔

بعدازاں، اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے، صدر براک اوباما نے کہا کہ عراق اور شام میں داعش کے شدت پسندوں پر کاری ضرب لگائی گئی ہے، جب کہ اُن کے زیر تسلط ایک چوتھائی رقبہ واگزار کرالیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ فضائی کارروائی کے ذریعے شدت پسندوں کو خاصہ جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا ہے، اور اُن کے ہتھیاروں کے ذخیرے اور زیر قبضہ بنیادی ڈھانچے کو تہس نہس کردیا گیا ہے۔

وزیر اعظم العبادی کے بقول، ’ہم انبار اور نینوا کے زیر تسلط علاقے پر دوبارہ قبضے کے حصول کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، اور امریکہ کی قیادت والے اتحاد کی حمایت سے، اپنے ہدف کے حصول میں ضرور کامیاب ہوں گے‘۔

صدر اوباما نے عبادی کی قیادت میں ’سب کی شرکت والی حکومت‘ تشکیل دینے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اب حکومت میں شیعہ، سنی اور کرد سبھی کی نمائندگی موجود ہے۔

دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے بارے میں، صدر اوباما نے کہا کہ یہ ایک ’طویل المدتی عمل ہے‘، اور یہ کہ ’حالات میں راتوں رات بہتری نہیں آ سکتی‘۔

امریکی صدر نے وزیر اعظم عبادی کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو ’دوستانہ، تفصیلی اور کھلے دل سے کی گئی گفتگو‘ قرار دیا۔

بتایا جاتا ہے کہ امریکی اور عراقی سربراہان نے عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف جاری لڑائی کی موجودہ صورت حال پر گفتگو کی۔

ایسے میں جب امریکی ووٹر علاقے میں امریکی جنگوں سے اکتایا ہوا ہے، مسٹر اوباما نے واضح کیا ہے کہ زمین پر امریکی فوج کی تعیناتی سے اجتناب کیا جائے گا۔ تاہم، شدت پسندوں کی جانب سے بغیر سرحد والی مذہبی خلافت کے قیام کی لڑائی کو روکنے کی غرض سے فضائی حملوں کی اجازت دے رکھی ہے۔

XS
SM
MD
LG