رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیل کا مرحلہ وار انخلا قابلِ قبول ہے، فلسطینی صدر


فلسطینی صدر کا کہنا ہے کہ وادیٔ اردن سے اسرائیل کو مرحلہ وار فوجی انخلا کی اجازت دینے کا فیصلہ منطقی ہوگا۔

فلسطین کے صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان کوئی امن معاہدہ ہونے کی صورت میں وہ اسرائیلی فوج کو تین سال تک مغربی کنارے میں موجود رہنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔

منگل کو ایک انٹرویو میں فلسطینی صدر نے کہا کہ خطے میں قیامِ امن کا کوئی معاہدہ طے پانے کی صورت میں ہی مخصوص عبوری مدت کے لیے مغربی کنارے میں اسرائیل کی فوجی موجودگی برداشت کی جاسکتی ہے۔

صدر عباس نے کہا کہ جو لوگ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی فوجی موجودگی کے لیے 10 اور 15 سال کی عبوری مدت کی تجویز دے رہے ہیں وہ کوئی امن معاہدہ طے پانے کے بارے میں سنجیدہ نہیں۔

اسرائیل کی ایک سکیورٹی کانفرنس کے دوران نشر کیے جانے والے اس انٹرویو میں فلسطینی صدر کا کہنا تھا کہ وادیٔ اردن سے اسرائیل کو مرحلہ وار فوجی انخلا کی اجازت دینے کا فیصلہ منطقی ہوگا۔

انہوں نے تجویز دی کہ اس مرحلہ وار انخلا کے دوران علاقے میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں 'نیٹو' جیسے کسی تیسرے فریق کے حوالے کی جاسکتی ہیں۔

خیال رہے کہ مغربی کنارے میں موجود وادیٔ اردن کی سرحدیں پڑوسی ملک اردن سے ملتی ہیں اور اسرائیل اس اہم سرحدی علاقے میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کا خواہش مند ہے۔

تاہم فلسطینی حکام اس علاقے کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا لازمی حصہ قرار دیتے ہیں اور علاقے پر اسرائیل کا فوجی قبضہ اسرائیل-فلسطین امن مذاکرات کے ایجنڈے میں سرِ فہرست رہا ہے۔

اسرائیلی وزیرِا عظم بینجمن نیتن یاہو ماضی میں کئی بار واضح کرچکے ہیں کہ ان کے ملک کو فلسطینیوں کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ صرف اسی صورت میں قبول ہوگا جب اس میں "دریائے اردن کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی طویل عرصے تک فوجی موجودگی کی یقین دہانی" کرائی گئی ہو۔

امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری آئندہ چند ہفتوں میں دوبارہ خطے کا دورہ کریں گے جس میں وہ ممکنہ طور پر اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان مجوزہ حتمی امن معاہدے کا "فریم ورک" تجویز کریں گے۔
XS
SM
MD
LG