رسائی کے لنکس

اسرائیلی وزیر اعظم کی تقریر امن کےحصول میں رکاوٹ کاباعث ہے: عباس کے مشیر کا بیان


اسرائیلی وزیر اعظم کی تقریر امن کےحصول میں رکاوٹ کاباعث ہے: عباس کے مشیر کا بیان

نبیل ابو رضینہ کا کہنا تھا کہ امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے منگل کے خطاب میں مسٹر نتن یاہو کی طرف سے پیش کیے گئے امن کےلیے اسرائیلی رہنما اصولوں میں ’کوئی نئی بات‘ نہیں ہے

فلسطینی صدر محمود عباس کے ایک ترجمان نے مذاکرات کے ایک نئے دور کے لیے اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نتن یاہو کی تجویز کردہ شرائط پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ امن کے حصول کی راہ میں مزید دشواریاں پیدا کریں گی۔

نبیل ابو رضینہ کا کہنا تھا کہ امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے منگل کے خطاب میں مسٹر نتن یاہو کی طرف سے پیش کیے گئے امن کےلیے اسرائیلی رہنما اصولوں میں ’کوئی نئی بات‘ نہیں ہے۔

رضینہ نے کہا کہ اسرائیلی راہنما نے یہ کہہ کر امن کی راہ میں مزید رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں کہ یروشلم ہر صورت میں ، مسٹر نتن یاہو کے بقول، اسرائیل کا ’متحدہ دارالحکومت‘ رہنا چاہیئے اور یہ کہ حتمی اسرائیلی سرحدوں میں مغربی کنارے میں قائم اہم یہودی بستیاں شامل ہونی چاہئیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ آئندہ کے فلسطین میں اسلحے کی اسمگلنگ کو روکنے کی خاطر اسرائیل اِس بات کا خواہاں ہے کہ مغربی کنارے کی وادی اردن میں ’ایک طویل عرصے تک‘ فوجی موجودگی قائم رکھی جائے۔

مسٹر عباس کی حکومت نے کہا ہے کہ آئندہ کی ریاست کے قیام میں وہ سارے کےسارے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کو اپنے ساتھ رکھنا چاہیں گے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔ مسٹر عباس کے مشیروں نے منگل کو کہا کہ اُن کی حکومت ستمبر کے مہینے میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں فلسطینی ریاست کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے کی کوششوں کو جاری رکھے گی۔

غزہ میں حکمراں حماس کےعسکریت پسند گروپ کا کہنا ہے کہ مسٹر نتن یاہو کی تقریر فلسطینیوں کو اُن کے حقوق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔

حماس کے ترجمان سمیع ابو زہری نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ امن مذکرات کے بجائے فلسطینیوں کو مزاحمت کی راہ اپنانی چاہیئے۔ مسٹر نتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل، حماس کی حمایت سے چلنے والی فلسطینی حکومت کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔

XS
SM
MD
LG