رسائی کے لنکس

logo-print

جنگ افغانستان کے مسائل کا حل نہیں ہے: وزیر اعظم عباسی


وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی (فائل فوٹو)

پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جنگ افغانستان کے مسائل کا حل نہیں ہے اور ان کے بقول افغان تنازع کا حل بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے اور پاکستان اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے پرتیار ہے۔

وزیر اعظم عباسی کا یہ یبان ان کے دورہ کابل کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جب جمعے کو انہوں نے افغان صدر اشرف غنی اور دیگر اعلیٰ افغان عہدیداروں سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔

صوبہ بلوچستان کےضلع خاران میں ہفتہ کو ایک تقریب سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن سب کے مفاد میں ہے۔

" جنگ افغانستان کے مسائل کا حل نہیں ہے افغانستان کے مسئلے کا حل صرف ایک ہے کہ افغان بیٹھ کر آپس میں بات چیت کریں اور اپنے مسائل کو حل کریں ہم اس مذاکراتی عمل میں پوری مدد کرنے کو تیار ہیں یہ ہم پر لازم ہے (کیونکہ ) ہم چاہتے ہیں کہ وہاں پر امن ہو۔"

انہوں نے مزید کہا کہ" اس(پیش کش )کو انہوں (افغان قیادت) نے بھی قبول کیا اور مجھے پورا یقین ہے کہ جس خلوص سے ہم نے بات کی ہے اور جو خلوص ہمیں ان کی باتوں میں نظر آیا ہے ، افغانستان میں امن ہو گا اور اس کے اثرات(پاکستان ) تک بھی پہنچیں گے۔"

واضح رہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے رواں سال فروری میں افغان طالبان کو مذاکرات کی غیر مشروط پیشکش کی تھی جس پر افغان طالبان طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم کابل اسلام آباد پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کےلیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرے۔

اگرچہ پاکستان کاموقف رہا ہے کہ اسلام آباد کا طالبان پرماضی کی نسبت اثر ورسوخ کم ہوگیا ہے تاہم بعض مبصرین کی رائے میں وزیر اعظم عباسی کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے طالبان کو مذکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

افغان امور کے ماہر اور سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ "وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے زور دے کر یہ بات کی ہےاس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی کوشش میں تیزی آ گئی ہے البتہ یہ بات کہ کیا یہ کوششیں کامیاب ہو جائیں گی یہ کہنا مشکل ہے کیونکہ پاکستان بڑا محتاط رویہ اپنائے گا ایسا نا ہو کہ طالبان نا مانیں اور پھر کوئی ناراضی ہو جائے۔"

تاہم انہوں نے کہا اسلام آباد اور کابل کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطح کے رابطے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کے فقدان کو دور کرنےمیں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

"یہ دورے ہو رہے ہیں ملاقاتیں ہورہی اور کچھ نقاط پر اتفاق رائے ہو رہا ہے اور یہ افغانستان پاکستان ایکشن پلان فار پیس اینڈ سالڈریٹی کا سمجھوتہ ہوا تھا جس کے بعد پانچ ورکنگ گروپ بن گئے ان کو بھی فعال کیا جائے گا تو یہ پہلے کے مقابلے میں حالات میں بہتری آئی ہے اور مزید بہتری بھی ممکن ہے۔"

واضح رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم نے اپنے دورہ کابل کے دوران افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جسے بعض مبصرین اسلام آباد اور کابل کے درمیان بڑھتے ہوئے باہمی تعلقات کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کی کوششوں کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG