رسائی کے لنکس

logo-print

'انتخابات سے قبل میڈیا اور سیاست میں خوف کا ماحول ہے'


گل بخاری لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر رائٹرز کو انٹرویو دے رہی ہیں۔

گل بخاری نے بتایا کہ وہ مسلسل لائیو واٹس ایپ کے ذریعے اپنے دوستوں اور خاندان کے افراد کے گروپ کو اپنی موجودگی کے مقام کے بارے میں آگاہ کرتی رہتی ہیں۔

پاکستان کی ایک صحافی اور انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والی سرگرم کارکن گل بخاری کا کہنا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔

گل بخاری کو گزشتہ ماہ لاہور کے کنٹونمنٹ کے ایک علاقے سے نامعلوم افراد نے اغوا کرلیا تھا جس کے چند گھنٹے وہ افراد انہیں ان کے گھر کے نزدیک چھوڑ گئے تھے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے ساتھ انٹرویو میں گل بخاری کا کہنا تھا کہ "میں بہت غیر محفوظ محسوس کرتی ہوں۔ میں نے اپنے بیٹے کی نقل و حرکت محدود کردی ہے۔ جب میرے شوہر یا میں گھر سے باہر ہوتے ہیں تو مجھے پریشانی لاحق رہتی ہے۔"

انہوں نے بتایا کہ وہ مسلسل لائیو واٹس ایپ کے ذریعے اپنے دوستوں اور خاندان کے افراد کے گروپ کو اپنی موجودگی کے مقام کے بارے میں آگاہ کرتی رہتی ہیں۔

گل بخاری کو گزشتہ ماہ لاہور میں کنٹونمنٹ کے ایک علاقے سے اس وقت ڈبل کیبن گاڑیوں میں سوار بعض نقاب پوش افراد ان کی گاڑی سے اتار کر اپنے ساتھ لے گئے تھے جب وہ ایک ٹی وی پروگرام کی ریکارڈنگ کے لیے اسٹوڈیو جارہی تھیں۔

گل بخاری کے مبینہ اغوا پر اندرون و بیرونِ ملک کے مختلف حلقوں کی جانب سے سخت ردِ عمل سامنے آیا تھا اور ان کی پر اسرار گمشدگی پر پاکستانی فوج کی جانب بھی انگلیاں اٹھائی گئی تھیں۔

لیکن پاکستان کی فوج گل بخاری کے اغوا میں اپنے کسی بھی قسم کے کردار سے انکار کرتی ہے۔

ان کے مبینہ اغوا کے چند دن بعد پاکستانی فوج کے ترجمان نے ایک وضاحتی بیان میں کہا تھا کہ "ہمارا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس واقعے کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔"

گل بخاری سوشل میڈیا پر خاصی ایکٹو ہیں اور وہ ماضی میں پاکستانی فوج کے بعض اقدامات کی سخت ناقد رہی ہیں۔

'رائٹرز' کے ساتھ انٹرویو میں گل بخاری کا مزید کہنا تھا کہ 25 جولائی کے انتخابات سے پہلے ملک کے سیاسی ماحول اور میڈیا میں "خوف اور دباؤ" کی فضا ہے۔

گل بخاری کے اغوا کے بعد سے ذرائع ابلاغ کے ملکی اداروں اور صحافیوں کو سکیورٹی اداروں کی جانب سے ڈرانے اور دھمکانے کی شکایات مسلسل سامنے آرہی ہیں۔

'رائٹرز' کے ساتھ انٹرویو میں گل بخاری نے اپنے مبینہ اغوا کی واردات کی تفصیل بتانے سے گریز کیا۔

تاہم انہوں نے یہ ضرور کہا کہ ان کے اغوا کے واقعے کو رواں ماہ ہونے والے انتخابات سے پہلے دباؤ کے ماحول کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

انہو ں نے کہا کہ انہوں نے اس واقعے کے بعد پولیس سے سکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست کی تھی جس پر اب تک عمل نہیں کیا گیا۔

پاکستان اور برطانیہ کی دوہری شہریت رکھنے والی گل بخاری کے بقول ان کی فوری رہائی بین الاقوامی نشریاتی اداروں پر ان کے اغوا کی ہونے والی کوریج اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پاکستانیوں کے سخت ردِ عمل کا نتیجہ تھی۔

کئی اہم سیاسی رہنماؤں اور انسانی حقوق کے ملکی اور غیر ملکی سرگرم کارکنوں سمیت ہزاروں افراد نے ٹوئٹر پر گل بخاری کے لاپتا ہونے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا تھا جب کہ ان کے مبینہ اغوا کی خبر تمام بڑے عالمی اخبارات اور نشریاتی اداروں نے کور کی تھی۔

گل بخاری کا مزید کہنا تھا کہ ان کے اغوا کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا تھا کہ "کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس تک پہنچا نہ جا سکے۔ کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔"

انہوں نے کہا کہ "یہ سب کچھ بہت صاف اور واضح ہے اور دیدہ دلیری سے ہو رہا ہے۔" ان کے بقول، "اگر خوف کا کوئی احساس تھا تو یہ اب پوری طرح حاوی ہے۔۔ اب صرف خوف کا احساس ہی نہیں ہے بلکہ شدید خوف ہے۔"

گل بخاری کے اغوا سے ایک روز قبل ہی پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک پریس کانفرنس میں سوشل میڈیا پر سرگرم بعض پاکستانی صحافیوں اور دیگر افراد کی تصاویر دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ یہ لوگ ریاست مخالف پروپیگنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

پاک فوج کے ترجمان کی اس بریفنگ اور صحافیوں پر ریاست مخالف پروپیگنڈے کا الزام لگانے پر کئی حلقوں کی جانب سے تنقید ہوئی تھی لیکن فوج نے اس الزام کی مزید کوئی وضاحت نہیں کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG