رسائی کے لنکس

logo-print

قدیر خان پر کھلے عام بات کرنے پر قدغن لگانے کی درخواست


قدیر خان پر کھلے عام بات کرنے پر قدغن لگانے کی درخواست

وفاقی حکومت نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی ڈاکٹر قدیر خان پر کھلے عام اور میڈیا سے بات چیت پر پابند ی بحال کر نے کی درخواست کی ہے۔

یہ اقدام امریکی اخبار واشنگٹن پوست میں ڈاکٹر قدیر کے شائع ہونے والے ایک انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس خبر میں بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور یہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے خلاف سازشوں کا حصہ ہے۔

ڈاکٹر خان کو25 جنوری کوعدالت کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے کا نوٹس جاری کیا ہے۔ ڈاکٹر قدیر کو ملک کے حساس جوہری راز شمالی کوریا، لیبیا اور ایران کو فروخت کرنے کا اعتراف کرنے کے بعد پانچ سال تک گھر میں نظر بند رکھا گیا تھا۔ تاہم گذشتہ سال اگست میں لاہور ہائی کورٹ نے پاکستانی حکام کو ڈاکٹر خان پر کھلے عام بات کرنے پر لگائی گئی قدغنیں ختم کرنے پھر فروری 2009ء میں انھیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG