رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان اور افغانستان کو ایک دوسرے پر شک کرنا چھوڑنا ہو گا: عبداللہ عبداللہ


افغانستان کے چیئرمین برائے اعلی کونسل برائے قومی مفاہمت عبداللہ عبداللہ اور پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی۔

افغانستان کی قومی مصالحت کی اعلیٰ کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ افغان حکومت نے دوحہ امن مذاکرات میں شریک اپنے وفد کو تاکید کی ہے کہ وہ اس عمل کے دوران تحمل کا مظاہرہ کریں اور افغانستان میں امن کے قیام کے تاریخی و نادر موقع کو ہاتھ سے مت جانے دیں۔

منگل کو پاکستان کے دفترِ خارجہ سے وابستہ 'تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف اسٹرٹیجک اسٹڈیز' اسلام آباد میں ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا افغانستان 1990 یا 2001 والا نہیں رہا بلکہ بدل چکا ہے اور نئی نسل ایک پرامن مستقبل کی خواہاں ہے۔

ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ ان دنوں اسلام آباد کے تین روزہ سرکاری دورے پر ہیں اور افغان قومی مصالحت کے سربراہ کے طور پر یہ ان کا پہلا دورہ پاکستان ہے۔

افغانستان کی قومی مصالحت کی اعلی کونسل کا وفد ایک ایسے وقت میں پاکستان کا دورہ کر رہا ہے جب قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں۔

عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ وہ ایسے وقت میں پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں جب افغانستان کا ایک نیا اور پرامن مستقبل طلوع ہونے کو ہے۔

انہوں نے امن مذاکرات کے آغاز کے لیے پاکستان کی کوششوں اور تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ اب ہمیں ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنا ترک کرنا ہو گا۔

افغان رہنما نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو گزشتہ چار دہائیوں کے حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے عوامی سطح کے رابطوں اور تجارت کو فروغ دینا چاہیے۔

عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے افغان صدر اشرف غنی سے ٹیلی فونک رابطے میں افغانستان میں تشدد میں کمی اور اس کے نتیجے میں جنگ بندی کا بیان بہت اہم اور امن کے قیام میں معاون ثابت ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ یہاں مذاکرات کے لیے اسلام آباد آئے ہیں جو کہ ان کے بقول دو ہمسایہ ممالک کے باہمی تعلقات میں گرم جوشی کا ایک نیا دور ہے۔

افغانستان کی قومی مصالحت کونسل کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کو دہشت گردی کے ساتھ ساتھ اب کرونا وائرس جیسے مسائل اور دشواریوں کا سامنا ہے اور ان کے بقول یہی وقت ہے کہ دونوں قوموں کو مستقبل کی راہوں کا تعین کرنا ہو گا۔

عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ افغان مصالحتی کونسل کے سربراہ کے طور پر ان کا کام فریقین کے مابین اتفاق رائے پیدا کرنا اور مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کا آغاز ایک سنہری موقع ہے جسے ضائع نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ میں کوئی فاتح اور امن کے قیام میں کسی کو شکست نہیں ہوتی۔

انہوں نے افغانستان میں امن کے قیام کے لیے تعاون پر خطے کے ممالک کا اس یقین کے ساتھ شکریہ ادا کیا وہ پرامن افغانستان کے لیے یہ عمل جاری رکھیں گے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان، افغان مفاہمتی عمل کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو امن کی ان کوششوں کو سبوتاژ کرنے والے عناصر سے باخبر رہنا چاہیے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان، افغانستان پر اپنی ملکیت نہیں جتانا چاہتا بلکہ ہمسایہ ملک کے ساتھ دوستی کا خواہاں ہے۔ انہوں نے مفاہمت کے لیے سرگرم افغان قیادت کو یقین دلایا کہ پاکستان مذاکرات کے نتیجے میں طے پانے والے سمجھوتے کی حمایت کرے گا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ آج عالمی برادری افغان مسئلے کے سیاسی حل کی حمایت کر رہی ہے اور افغان قیادت کو اس نادر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے افغانستان میں مستقل اور دیرپا امن کی کاوشوں کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG