رسائی کے لنکس

logo-print

'سماجی زندگی میں تعطل، سیاسی جماعتوں کا کردار صفر'


پاکستان میں حقیقی سیاسی سرگرمی نادیدہ طریقے سے بند کردی گئی، میڈیا پر پابندیاں غیر علانیہ ہونے کی وجہ سے قانونی کارروائی نہیں کرسکتے، عابد منٹو

عابد حسن منٹو کا تعارف کوئی ایک حوالہ نہیں ہو سکتا۔ وہ پاکستان کے قابل ترین وکلا میں شامل ہیں۔ سپریم کورٹ بار کے صدر رہ چکے ہیں۔ مارشل لا کے مختلف ادوار میں اس کے خلاف تحریکوں میں سرگرم رہے۔ نصف صدی سے زیادہ سیاسی جدوجہد کی۔ بائیں بازو کی جماعتوں کو منظم کیا اور ورکرز پارٹی آف پاکستان کے صدر ہیں۔ ادبی نقاد ہیں اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے رکن رہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں بیس سال پڑھاتے رہے۔

قیام پاکستان کے وقت عابد حسن منٹو پندرہ سال کے تھے۔ ستر اکہتر سال کی سیاسی اور سماجی تاریخ ان کے پیش نظر ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کچھ سیاست دان اور صحافی سیاسی جماعتوں پر دباؤ اور میڈیا سنسرشپ کی بات کرتے ہیں۔ کیا ہمارے وکلا کو یہ سنسرشپ دکھائی نہیں دے رہی؟

عابد حسن منٹو نے کہا کہ بھئی، یہ باتیں میں سن رہا ہوں۔ ایک تو وہ سنسرشپ ہوتی ہے جو حکومت کسی قانون کے مطابق اعلانیہ کرتی ہے۔ ویسا تو نہیں ہے۔ لیکن بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ کافی پابندیاں ہیں اور کوئی آزادی نہیں ہے۔ چونکہ قانون کے مطابق کوئی اعلان نہیں کیا گیا اور اس کے بارے میں حکومت کا کوئی بیان نہیں ہے اس لیے اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی بھی نہیں ہوسکتی۔ ہمارے ملک میں آج کل اسی طریقے سے کام ہو رہے ہیں کہ کوئی اعلان نہیں کرتے، کوئی قانونی جواز نہیں ہوتا اور کسی قانون کا حوالہ نہیں دیتے۔ کچھ موضوعات پر گفتگو کرنے اور بیان دینے پر پابندیاں ہیں۔ میڈیا کو کافی مسائل ہیں۔

میں نے دریافت کیا کہ بنوں میں پشتون تحفظ موومنٹ اتنا بڑا جلسہ کرتی ہے لیکن قومی میڈیا اسے دکھا نہیں سکتا۔ کیا عوام کے احتجاج کو نظرانداز کرنا مناسب ہے؟ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بارے میں آواز کیوں نہیں اٹھا رہیں؟

عابد حسن منٹو نے کہا کہ ہماری انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی ان باتوں پر کوئی واضح موقف اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہماری سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی عمل نادیدہ طریقے سے روک دیا گیا ہے۔ اس وقت سیاست کا کوئی وجود نہیں۔ ون وے ٹریفک ہے۔ جو سرکار چاہتی ہے، وہی ہو رہا ہے۔ ایسا مارشل لا ادوار میں بھی ہوا، مختلف حکومتوں میں بھی ایسے اقدامات کیے گئے۔ مسئلہ یہ ہے کہ لکھنے والے، پڑھنے والے، بولنے والے، پریس والے، ہم خود بھی منظم نہیں ہیں۔ کوئی اس کے خلاف بیان دینے یا موقف اختیار کرنے پر تیار نہیں ہوتا۔ ایسا لگتا ہے کہ چاروں جانب بہت زیادہ پابندیاں ہیں جن کی وجہ سے لوگ ہل جل بھی نہیں سکتے۔

میں نے کہا کہ ماضی میں ہمارے سیاست دان مقتدر قوتوں کے خلاف آواز اٹھاتے تھے اور تحریک چلاتے تھے۔ ادیبوں شاعروں میں فیض اور جالب جیسے لوگ تھے جو جیل جانے سے نہیں گھبراتے تھے۔ وکلا ہر تحریک میں پیش پیش ہوتے تھے۔ اب ایسا کیوں نہیں ہے؟

عابد حسن منٹو نے کہا کہ وجہ یہی ہے کہ ہمارا معاشرہ زیادہ سے زیادہ غیر سیاسی ہوتا جارہا ہے۔ اس میں سیاست کے عنصر کو نادیدہ طریقے سے منہا کر دیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کا اپنا کوئی کردار نہیں ہے۔ سیاسی جماعتیں کوئی اسٹینڈ نہیں لے رہیں۔ لوگ دبی آواز میں شکایت کرتے ہیں لیکن سیاسی جماعتیں میدان میں آ کر کچھ نہیں کہتیں۔ اصل بات یہ ہے کہ سیاسی جدوجہد، سیاسی تحریک کو ازسرنو جنم دینے اور میدان میں آنے کی ضرورت ہے۔

جب سیاسی جماعتیں کسی دباؤ یا خوف یا اپنی بے عملی کی وجہ سے یہ کام نہیں کر رہیں تو کسے کرنا چاہیے؟ دانشوروں کو، ادیبوں کو یا وکلا کو آگے نہیں آنا چاہیے؟ آپ کس جانب دیکھیں گے؟

عابد حسن منٹو نے کہا کہ میں خود جب تک وکالت کرتا تھا تو وکلا نے بہت سی تحریکیں چلائیں۔ ضیا مارشل لا کے خلاف 80ء کی دہائی میں بہت کامیابی سے تحریک چلائی۔ لوگ جیلوں میں بھی گئے، اس کے نتیجے میں ایم آر ڈی بھی بنی اور مارشل لا کو ہٹانے کی جدوجہد تیز ہوئی۔ لیکن یہ وہ زمانہ تھا جب سیاسی ماحول موجود تھا۔ سیاسی جماعتیں اپنا کردار ادا کر رہی تھیں۔ اب سیاسی جماعتیں کوئی کردار ادا نہیں کر رہیں۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ پاکستان اس وقت ایسی جگہ پر کھڑا ہے جہاں سماجی زندگی میں تعطل ہے اور کوئی ان تمام مسائل کے باوجود، ان تمام رکاوٹوں کے باوجود اور ان تمام پابندیوں کے باوجود کسی سرگرمی کے لیے تیار نہیں۔ وکلا نے ماضی میں ضرور جدوجہد کی لیکن اب وہ مختلف دھڑوں میں تقسیم ہیں۔ یہ سیاسی سرگرمی کی غیر موجودگی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اگر میدان میں سیاسی سرگرمی ہورہی ہو، عوام میں سیاسی شعور ہو تو چیزیں اپنا راستہ بناتی ہے۔

میں نے آخری سوال کیا کہ اگر بظاہر جمہوری دور میں یہ حال ہے تو خدانخواستہ اگر غیر مسطور مارشل لا لگ گیا تو کیا ہو گا؟

عابد حسن منٹو نے کہا کہ اگر سیدھا مارشل لا لگ جائے گا تو کچھ آواز اٹھنا شروع ہو جائے گی۔ فی الحال نادیدہ قوتوں نے غیر محسوس طریقے سے پابندی لگائی ہوئی ہے اور اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کا اپنا کردار صفر ہے۔

نوٹ: وائس آف امریکہ اردو نے پاکستان میں پریس فریڈم کی صورتِ حال کے بارے میں انٹرویوز کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس میں صحافیوں، ادیبوں، وکلا، میڈیا اداروں کے مالکان اور میڈیا کے بارے میں سرکاری پالیسی سے متعلق عہدیداروں سے گفتگو شامل کی جاتی رہے گی۔ اوپر دیا گیا انٹرویو اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG