رسائی کے لنکس

logo-print

برطانیہ بدری کے خلاف ابو حمزہ کی اپیل مسترد


مصری نژاد ابو حمزہ نے 1980ء میں افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جہاد میں بھی سرگرمی سے حصہ لیا تھا جس میں انہیں اپنی ایک آنکھ اور دونوں ہاتھوں سے محروم ہونا پڑا تھا۔

ایک اعلیٰ برطانوی عدالت نے مبینہ مسلمان شدت پسند ابو حمزہ کی جانب سے اپنی امریکہ حوالگی کے خلاف دائر اپیل مسترد کردی ہے جس کےبعد ان کی برطانیہ بدری کی راہ میں حائل آخری قانونی رکاوٹ بھی دور ہوگئی ہے۔

برطانوی ہائی کورٹ نے جمعے کو سنائے گئے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ابو حمزہ اور ان کے ساتھ قید چار دیگر مشتبہ شدت پسندوں کی صحت اس قابل ہے کہ انہیں دہشت گردی کے الزامات میں قائم مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے امریکہ کے حوالے کردیا جائے۔

عدالتی کاروائی کے دوران میں ابوحمزہ کے وکلا نے موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے موکل کی طبیعت عرصہ دراز سے ناساز ہے لہذا انہیں مکمل طبی معائنے تک امریکہ کے حوالے کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد روک دیا جائے۔

حمزہ کے وکیل ایلن جونز نے رواں ہفتے ہونے والی سماعت میں عدالت کو بتایا تھا کہ اگر ابو حمزہ اپنی خراب صحت کے باعث اپنے خلاف قانونی کاروائی کا سامنا کرنے کے قابل نہیں تو انہیں امریکہ کے حوالے کرنا "ظلم" ہوگا۔

مسلم نوجوانوں کو جہاد پر ابھارنے اور غیر مسلموں کے خلاف جہاد پر اکسانے کے الزامات کے تحت ابوحمزہ گزشتہ کئی برسوں سے برطانوی حکام کی قید میں ہیں۔

حمزہ امریکی ریاست اوریگان میں دہشت گردوں کا ایک تربیتی کیمپ کے قیام کی کوشش کرنےاور یمن میں اغوا کی وارداتوں میں القاعدہ کی مدد کرنے کے الزامات میں امریکی حکام کو بھی مطلوب ہیں جنہوں نے برطانوی حکومت سے انہیں امریکہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

گزشتہ ہفتے ابو حمزہ نے برطانوی ہائی کورٹ میں اپنی امریکہ حوالگی کے خلاف نئی اپیل دائر کردی تھی جس کے بعد عدالت نے ان کی برطانیہ بدری روکنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

تاہم جمعے کو سامنےآنےو الے فیصلے کے بعد برطانیہ کے 'ہوم آفس' نے کہا ہے کہ انہیں اور چار دیگر مشتبہ شدت پسندوں کو جلد ہی امریکہ کے حوالے کردیا جائے گا۔

مصری نژاد ابو حمزہ نے 1980ء میں افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جہاد میں بھی سرگرمی سے حصہ لیا تھا جس میں انہیں اپنی ایک آنکھ اور دونوں ہاتھوں سے محروم ہونا پڑا تھا۔
XS
SM
MD
LG