رسائی کے لنکس

logo-print

مبینہ دہشت گرد کی رہائی پر برطانوی سیاستدانوں کو تشویش


مبینہ دہشت گرد کی رہائی پر برطانوی سیاستدانوں کو تشویش

القاعدہ کے مقتول راہنما اسامہ بن لادن کے ساتھ مبینہ تعلقات اور شدت پسندی کےالزامات کے تحت گرفتار اردنی نژاد مبلغ ابو کتادا کی رہائی کو برطانوی سیاستدانوں نے مایوس کُن قرار دیا ہے۔

گذشتہ چھ سال سے برطانوی جیل میں قید ابو کتادا کو برطانوی حکومت کی جانب سے اردن بدر کرنے کے فیصلے کو یورپی عدالت نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اردن میں اُن پر دورانِ تفتیش تشدد کیا جا سکتا ہے۔

ابو کتادا کی انسانی حقوق کی بنیاد پر رہائی کے فیصلے سے برطانیہ میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے اور بیشتر سیاسی راہنماؤں نے ملک اور عوام کی سکیورٹی کو اولین ترجیح دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

برطانوی رکنِ پارلیمنٹ پیٹر بون کہتے ہیں ایک شخص کو جسے یہ لوگ خطرناک قرار دیتے ہیں صرف اُس کے انسانی حقوق کو درپیش خطرات کےباعث برطانیہ میں رہنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے۔

برطانوی ہاؤس آف لارڈز کے رکن لارڈ نذیر احمد نے بتایا ہے کہ کتادا کو اردن بھیجا جائے جو اُن کا اصل ملک ہے۔

ابو کتادا پر اردن میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی جاچکی ہے جب کہ وہ امریکہ، الجزائر، اسپین، اٹلی اور فرانس میں بھی مطلوب ہیں۔

XS
SM
MD
LG